دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 343 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 343

343 " دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پھر اسی کتاب میں ایک اور مقام پر حضرت محی الدین ابنِ عربی فرماتے ہیں۔فَإِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي قَدِ انْقَطَعَتْ بِوُجُوْدِ رَسُولِ اللهِ الله إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُ التَّشْرِيْعِ لَا مُقَامُهَا فَلَا شَرْعَ يَكُوْنُ نَاسِخًا لِشَرْعِه الا الله وَلا يَزِيدُ فِي حُكْمِه شَرْعًا آخَرَ وَ هذَا مَعْنَى قَوْلِهِ الله أَنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ أَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِي بَلْ إِذَا كَانَ يَكُوْنُ تَحْتَ حُكْمِ شَرِیعَتِی۔“ ترجمہ: وہ نبوت جو رسول کریم صلی یا ملک کے آنے سے منقطع ہو گئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقامِ نبوت۔پس اب کوئی شرع نہ ہو گی جو آنحضرت صلی علی نام کی شرع کی ناسخ ہو اور نہ آپ کی شریعت میں کوئی نیا حکم بڑھانے والی شرع ہو گی اور یہی معنی رسولِ کریم کے اس قول کے ہیں کہ نبوت اور رسالت منقطع ہو گئی ہے۔پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی یعنی مراد آنحضرت صلی للی نیلم کے اس فرمان کی یہ ہے کہ اب کوئی ایسا نبی نہیں ہو گاجو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو بلکہ جب کوئی نبی) ہو گا تو وہ میری شریعت کے تحت ہو گا۔الفتوحات المكية ، المجلد الثانی ،ناشر دار صادر بيروت ص3) اور یہ عقیدہ کہ آنحضرت صلی ال ایام کے بعد امتی نبی ہو سکتا ہے صرف سلف صالحین تک محدود نہیں تھا بلکہ اس دور کے علماء بھی بڑی تعداد میں یہ عقیدہ رکھتے رہے۔چنانچہ بانی دارالعلوم دیوبند ، مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب اپنی تصنیف تحذیر الناس میں ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر