دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 338
338 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری و عقد کا یہ ارادہ ہی نہیں کہ وہ اس بحث کو اپنے اصل موضوع پر آنے دیں۔یہاں پر ایک سوال لازماً پیدا ہو تا ہے کہ آخر وہ اس موضوع سے کترا کیوں رہے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل تیرہ سو سال تک امت محمدیہ کے کتنے ہی بزرگ گزرے ہیں جو اس عقیدہ کا برملا اظہار کرتے رہے کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت صلی ا یکم کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔آنحضرت الا لینک کمی کے بعد شرعی نبی کوئی نہیں آسکتا لیکن آپ کی غلامی میں اور آپ کی اطاعت کا جوا اُٹھا کر امتی نبی ضرور آ سکتا ہے۔ہم اس کی صرف چند مثالیں یہاں پر پیش کرتے ہیں۔ان مثالوں سے یہ بخوبی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کی ٹیم کا یہ دعویٰ بالکل غلط تھا کہ تمام امتِ مسلمہ اس بات پر متفق رہی ہے کہ آنحضرت صلی ال نیلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ صحیح مسلم میں کتاب الفتن کی ایک ہی حدیث میں رسول کریم صلی الم نے آنے والے مسیح کو چار مرتبہ نبی اللہ کا نام دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نبی دجال کے فتنہ کا سدباب کرے گا۔اس حدیث کے راوی حضرت نواس بن سمعان ہیں۔اس کے علاوہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں:۔قُولُوا خَاتَمَ النَّبِيَّيْن وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِي بَعْدَهُ " یعنی ( آپ صلی اللہ ہم کو ) خاتم النبیین تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔(الدر المنثور فی التفسير الماثور، مصنفہ جلال الدین السیوطی ، الجزء الخامس، دارالکتب العلمیہ۔بیروت ص386) حضرت مغیرہ بن شعبہ کے سامنے ایک آدمی نے یوں درود پڑھا صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ لا نَبِيَّ بَعْدَدُ یعنی اللہ محمد صلی علی کرم خاتم الانبیاء پر سلامتی نازل کرے۔آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس پر حضرت