دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 335 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 335

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 335 اللہ ہو گا اور میں نے ابھی بتایا ہے کہ امت کے سلف صالحین کی سینکڑوں عبارتیں یہاں بتائی جا سکتی ہیں جو آنے والے کا مقام ظاہر کر رہی ہیں۔۔۔اس طرح سینکڑوں حوالے ہیں۔اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں آٹھ دس دن میں وہ سینکڑوں حوالے آپ کو دکھا سکتا ہوں کہ تیرہ سو سال تک امت محمدیہ ایک نبی کا انتظار بھی کرتی رہی اور تمام سلف صالحین اس بات پر متفق تھے کہ اس نبی کا انتظار ختم نبوت کو توڑنے والا نہیں ہے۔“ سة اس مرحلہ پر ٹھہر کر یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس سپیشل کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ جائزہ لے کہ جو آنحضرت صلی اللی علم کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کا اسلام میں status کیا ہے؟ اب تک ممبرانِ اسمبلی غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر رہے تھے۔اب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس موضوع پر جماعت احمدیہ کا واضح موقف بیان فرما دیا تھا اور یہ بھی واضح اعلان فرما دیا تھا کہ تمام فرقوں کے سلف صالحین ایک موعود نبی کا انتظار کرتے رہے ہیں۔اگر یہ سپیشل کمیٹی موضوع پر آنے کا کچھ بھی ارادہ رکھتی تو یہ اچھا موقع تھا کہ وہ اصل موضوع پر سوالات شروع کر دیتے۔لیکن اب بھی ان میں اس کی ہمت نہیں تھی۔وہ اصل موضوع سے گریز کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر موضوع تبدیل کیا اور وہ سوال دہرایا جو وہ پہلے بھی کئی مرتبہ دہرا چکے تھے یعنی کیا آپ کے مطابق کیا بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود بھی ہیں اور امتی نبی بھی؟ اس کے بعد انہوں نے کچھ حوالے تصدیق کے لئے نوٹ کرائے۔اور پھر اپنی طرف سے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ احمدیوں کے علاوہ باقی فرقے یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم کے بعد اب کوئی نبی نہیں