دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 336
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 336 آئے گا اور احمدی کہتے ہیں کہ امتی نبی آ سکتا ہے۔اس پر حضور نے پھر اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ تیرہ سو سال تک امت محمدیہ ایک مسیح نبی اللہ کا انتظار کرتی رہی ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی نبی بن چکے ہیں۔حالانکہ یہاں نئے اور پرانے کا کوئی وہ سوال ہی نہیں تھا اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت لیلی لیلی کام کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو پھر و بھی نہیں ہو سکتا جسے پہلے ہی نبوت ملی ہو۔اس کے جواب میں حضور نے یہ پر معرفت نکتہ بیان فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام شریعتِ موسویہ کو جاری کرنے کے لئے دنیا میں آئے تھے یعنی قرآن کریم کے مطابق تو حضرت عیسی علیہ السلام کو صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اور بہت سے غیر احمدی مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہی حضرت عیسی علیہ السلام امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے بھجوائے جائیں گے۔اس پر یحییٰ بختیار صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ انہیں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا: ”مرزا صاحب ان کی اتھارٹی change ہو گئی۔“ 66 حضرت خلیفة المسیح الثالث فرما رہے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو صرف حضرت موسی کی پیروی اور تورات کی پیروی میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے جیسا کہ انجیل میں ان کے بہت سے اقوال سے ثابت ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم میں ان کے متعلق یہ ارشاد موجود ہے۔وَرَسُوْلاً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ (ال عمران: 49) یعنی حضرت عیسی بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے اور یہ خبر ان کی والدہ کو ان کی پیدائش سے قبل اللہ تعالٰی کی طرف سے دی گئی تھی۔اور کسی آیت میں یہ نہیں آتا کہ ان کو کسی اور قوم کی طرف مبعوث کیا جانا مقدر تھا۔لیکن اب قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل صاحب یہ اعلان فرمارہے تھے کہ اب ان کی اتھارٹی change ہو گئی ہے۔گویا ان کے نزدیک قومی اسمبلی صرف یہی اختیار نہیں رکھتی تھی کہ یہ فیصلہ کرے