دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 334
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 334 میں حوالے بھی پیش کرنے چاہئیں تھے لیکن کیا ایسا ہوا؟ ایسا نہیں ہوا۔کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ حضور کے اس دعوے کی تردید کر سکتا۔اور آنحضرت صلی ایم کے جاری فیضان کے بارے میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا:۔”میں اس کا اعلان کر دیتا ہوں کہ ہمارے نزدیک اب اللہ تعالیٰ کے انعامات کے سب دروازے اتباع محمد صلی الیم کے بغیر بند ہیں۔تو اب میں نے چونکہ یہ اعلان کر دیا ہے اس واسطے براہِ راست آپ مجھ سے سوال کریں۔“ علینیوم پھر اٹارنی جنرل صاحب نے خاتم النبیین صلی ا کرم کی مختلف تفاسیر کے بارے میں سوال کیا۔اس پر حضور نے جواب دیا:۔”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی ام خاتم النبیین ہیں۔اس معنی میں بھی کہ آپ سے قبل جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان کی ساری روحانی تجلیات مجموعی طور پر محمد علی یہ کام کی روحانی تجلیات سے حصہ لینے والی اور ان سے کم تھیں۔پہلے بھی اور آئندہ بھی۔کوئی شخص بزرگی، روحانی بزرگی اور روحانی عزت کے چھوٹے سے چھوٹے مقام کو بھی حاصل نہیں کر سکتا سوائے نبی اکرم صلی الی ایم کے فیض سے حصہ لینے کے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔“ اس مرحلہ پر ایک بار پھر بیٹی بختیار صاحب نے یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا:۔”میں نے ابھی عرض کی کہ امت محمدیہ شروع سے لے کے تیرہ سو سال تک حضرت نبی اکرم صلی الم کو خاتم النبیین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جسے مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت صلی یم نے چار بار نبی اللہ کہا اور وہ خاتم النبیین پر بھی ایمان رکھتے تھے۔اس واسطے میرے نزدیک تو کوئی اس میں الجھن نہیں ہے۔ساری امت تیرہ سو سال تک خاتم النبیین کے خلاف اس عقیدہ کو نہیں سمجھتی کہ ایک مسیح آئے گا جو نبی