دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 329 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 329

329 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مگر وہی آ سکتا ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی نیلم نے خوشخبری دی ہو اور فرمایا کہ جہاں تک مجھے علم ہے ایک وجود کے علاوہ آنحضرت صلی نیلم نے کسی اور امتی نبی کی بشارت نہیں دی اگر کسی کے علم میں کوئی ایسی حدیث ہو جس میں کسی دوسرے وجود کو بھی آنحضرت صلی یم نے نبی کا نام دیا ہو تو وہ بیان کر سکتے ہیں۔اور جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو یہ سوال ہی بنیادی طور پر غلط ہے اور اس کی بنیاد یہ غلط تصور ہے کہ آخری ہونا اپنی ذات میں کوئی فضیلت کی بات ہے۔حالانکہ زمانی طور پر آخری ہونا کسی طور پر کوئی فضیلت کا پہلو نہیں رکھتا۔البتہ یہ بات ایک عظیم الشان فضیلت کے بعد ہے کہ اب جو بھی مامور یا مصلح یا نبی آئے گا وہ آنحضرت صلی اللہ نام کی اتباع اور محبت کے نتیجہ میں یہ مقام پائے گا اور آپ کے تمام احکامات اور تعلیمات کی پیروی کرے گا اور جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے۔اصل میں وہ یہ اعتراض اُٹھانا چاہتے تھے کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ تمام فرقوں کے مطابق مسیح موعود نے آنحضرت صلی ایم کے بعد آنا ہے تو کیا یہ وجود ان فرقوں کے نزدیک آخری نبی نہیں بن جائے گا۔اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور حضور نے شاہ محمد اسمعیل شہید صاحب کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے اپنی کتاب تقوية الايمان مع تذكير الاخوان میں لکھا تھا ” اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے ایک آن میں ایک حکم گن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فرشتہ جبرئیل اور محمد صلی الی ریلی کے برابر پیدا کر ڈالے۔“ (72) اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔روز قیامت سارے نبی اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے۔آخری نبی کون شمار ہو گا۔حضرت محمدصلی للی کم یا مسیح یا عیسی علیہ السلام۔“ یا اس پر حضور نے یہ پر معرفت جواب دیا کہ