دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 304
304 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کی جا سکتی ہے کہ خواب اور کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔اور جب آئینہ کمالات اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کشف بیان فرمایا تو خود یہ امر بھی تحریر فرما دیا کہ اس کشف سے وہ عقیدہ مراد نہیں ہے جو وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذہب ہے اور نہ وہ مطلب نکلتا ہے جو حَلُولی عقائد رکھنے والوں کا مذہب ہے بلکہ اس میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے،اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔( صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع) اگر اعتراض کرنے والوں کی منطق قبول کر لی جائے تو پھر اس حدیث نبوی کی روشنی میں تمام مقربین الہی کو خدا کا بیٹا تسلیم کرنا پڑے گا لیکن کوئی بھی ذی شعور یہ منطق قبول نہیں کر سکتا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب اس کوشش میں تھے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ مشرکانہ عقائد رکھتی ہے۔لیکن اس مقصد کے لئے جو سوالات کئے جا رہے تھے ظاہر کرتے تھے کہ سوال کرنے ، وہ والے قرآنِ مجید، احادیث نبویہ اور امتِ محمدیہ کے مجددین اور اولیاء کی تحریرات اور اقوال کا سطحی علم بھی نہیں رکھتے۔اب اٹارنی جنرل صاحب سیرت المہدی میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیان فرمودہ کشف کی یہ عبارت پڑھی:۔