دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 303
303 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کچھ ہی دیر قبل حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے رویاء و کشوف کے تعبیر طلب ہونے کے بارے میں ایک نوٹ پڑھا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے غور سے اس کو نہیں سنا تھا۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کشف پڑھ کر اعتراض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ کشف ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہی تحریر کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف کتاب البریہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔”میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔سو نہ تو میں میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔۔۔(67) اس پر معرفت کشف کا بیان تو جاری رہتا ہے لیکن اتنی سی عبارت کا مطالعہ ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ اس کشف میں فنا فی اللہ ہونے کا ذکر ہے ، اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھوئے جانے کا ذکر ہے، اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے خدائی کا دعویٰ تو اس سے کسی طرح بھی نہیں نکالا جا سکتا اور یہ حقیقت کس طرح نظر انداز