دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 302 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 302

302 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اشعار پر اعتراض کیا تھا۔اس کے بعد حضور نے ان کا صحیح مطلب بیان فرمایا۔پھر نبی اور محدث کی اصطلاحات پر بات ہوئی۔اس کارروائی کے دوران یہ صورت حال بار بار سامنے آرہی تھی کہ سوال پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ بغیر سیاق و سباق کے پڑھ کر کوئی اعتراض اٹھانے کی کوشش کی جاتی لیکن جب حضرت خلیفة المسیح الثالث تمام حوالہ پڑھتے تو اعتراض خود بخود ہی ختم ہو جاتا۔کچھ سوال کرنے والوں کی علمی حالت بھی دِگر گوں تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھا دیا کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام شرعی نبی تھے۔حالانکہ یہ بات تو بچوں کو بھی معلوم ہے کہ حضرت عیسی کوئی نئی شریعت نہیں لے کر آئے تھے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے جو معین جملہ کہا وہ یہ تھا:۔نہیں مرزا صاحب ! میں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت عیسی " امتی نبی نہیں تھے کیونکہ ان کی شریعت آگئی تھی اپنی۔" " اس کے جواب میں حضور نے یہ ضروری تصحیح فرمائی:۔” حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی شریعت نہیں ، کوئی بھی نہیں مانتا ، کیونکہ وہ صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے۔۔۔66 اُس اسمبلی اور اٹارنی جنرل صاحب کی دینی معاملات میں علمی حالت یہ تھی کہ ان قابل حضرات کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ حضرت عیسی شرعی نبی نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ کی شریعت کی پیروی کرتے تھے اور اس کے با وجود وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون مسلمان نہیں ہے۔