دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 275 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 275

275 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لیکن اگر یہ نکتہ واضح ہو جاتا تو "انجام آتھم " کے جن حوالوں کو اٹارنی جنرل صاحب پیش کر رہے تھے ان پر نہ کوئی اعتراض ہو سکتا تھا اور نہ ہی ان سے وہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا جو کہ اٹارنی جنرل صاحب پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس لئے اس بار پھر انہیں حوالوں میں جعلسازی کر کے رڈ و بدل کرنا پڑا۔ہم اس کی مثال پیش کرتے ہیں۔جب حضرت خلیفة المسیح الثالث نے انہیں باور کرایا کہ ان عبارتوں میں تو یسوع لکھا ہوا ہے حضرت عیسی نہیں لکھا ہوا۔تو معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے عجلت میں یہ جعلی حوالہ تراشا۔اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پیش کیا:۔آپ کو (یعنی حضرت عیسی کو) بریکٹ میں یہ ہے ” یسوع“ نہیں ہے یہاں لکھا ہوا ہے 66 "آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔۔۔آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی “ حقیقت یہ ہے کہ یہ جملے نا مکمل طور پر پیش کئے جا رہے تھے۔یہ عبارت انجام آتھم میں جہاں ہے وہاں سرے سے کوئی بریکٹ موجود ہی نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ یہ عبارت حضرت عیسی کے بارے میں ہے یسوع کے بارے میں نہیں۔بلکہ یہ عبارت جہاں پر شروع ہو رہی ہے وہاں پر واضح طور پر ایک سے زائد مرتبہ ” یسوع “ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ عبارت فرضی یسوع کے بارے میں ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں نہیں ہے۔اب وقفہ کا وقت قریب آ رہا تھا اور اس سے قبل اعتراضات اُٹھانے والے اپنی دانست میں بڑا وار کرنا چاہتے تھے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے پہلے یہ تمہید باندھی کہ آپ نے اپنے محضر نامہ میں لکھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا آنحضرت صلی علیم سے بہت عقیدت اور پیار کا تعلق تھا۔اس تمہید کے بعد اٹارنی جنرل صاحب