دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 273
273 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی کہ میں ایک تحریر کا حوالہ پڑھ سکتا ہوں۔بہر کیف اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے مداخلت کی اور کہا کہ آپ کسی تحریر سے اپنی یاداشت کو تازہ کر سکتے ہیں۔پھر جاکر یہ حوالہ مکمل پڑھا گیا۔یہ ایک عجیب اعتراض تھا جو ایک ایسے ممبر کی طرف سے کیا گیا تھا جو خود وکیل تھا۔یہ ٹھیک ہے کہ عدالت میں ایک گواہ ایک تیار شدہ Statement نہیں پڑھ سکتا لیکن یہ ایک حوالہ تھا۔جب جماعت کی طرف ایک غلط بات منسوب کی جا رہی تھی اور اس الزام کی تائید میں نا مکمل یا غلط حوالے پڑھے جا رہے تھے تو جماعت احمدیہ کا وفد اپنے صحیح عقائد کو کرنے کے لیے متعلقہ حوالہ کیوں نہیں پڑھ سکتا؟ ظاہر یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریروں کو نا مکمل طور پر پیش کر کے یہ اعتراضات کئے جاتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کی ہے۔مندرجہ بالا حوالہ جات سے اس بے بنیاد الزام کی تردید ہو جاتی ہے۔لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس الزام کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کے حوالہ جات کا وہی عالم رہا جو کہ پہلے تھا۔سب سے پہلے تو انہوں نے ایک کتاب مکتوب احمدیہ کا حوالہ دیا۔جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں اس نام کی کسی کتاب کا کوئی وجود نہیں۔یہاں ایک اصولی بات کا ذکر ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اسی کتاب ”انجام آتھم میں جس کے حوالے اٹارنی جنرل صاحب نے پڑھے تھے تحریر فرمایا ہے:۔” اور یا درہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی یی کمی کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“