دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 270
270 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دیوبند کے مشہور مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سے جب پوچھا گیا کہ یزید کو کافر کہنا اور لعن کرنا جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فتویٰ دیا کہ جب تک کسی کا کفر پر مرنا متحقق نہ ہو جائے اس پر لعنت کرنا نہیں چاہئے، جو علماء اس میں تردد رکھتے ہیں کہ اوّل میں وہ مومن تھا اس کے بعد اُن افعال کا وہ مستحل تھا یا نہ تھا اور ثابت ہوا یا نہ ہوا تحقیق نہیں ہوا (64) البتہ بعض شیعہ کتب جو حضرت حسین کی شان بیان کرتے ہوئے بعض نا مناسب باتیں تحریر ہیں جماعت احمدیہ ان سے اتفاق نہیں کرتی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا رڈ بھی فرمایا ہے۔مثلاً بعض شیعہ کتب میں تو یہ بھی لکھا ہے حضرت حسینؓ کی ولادت سے کئی ہزار برس قبل حضرت آدم نے جب عرفات میں دعا کی تو پنجتن کا واسطہ دیا اور جب یہ واسطہ دیتے ہوئے حضرت حسین کا نام لیا تو آپ کے آنسو نکل آئے۔شب معراج کے دوران خود آنحضرت صلی لیدی نیلم نے حضرت حسین کا گریہ فرمایا حضرت نوح کا سفینہ کربلا کے اوپر سے گزر رہا تھا تو اسے جھٹکا لگا اور حضرت نوح روئے، بساطِ سلیمانی جب کربلا کے اوپر سے گزری تو اسے چکر آگیا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمَوتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوْقِنِينَ (الانعام : 76) یعنی ” اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت (کی حقیقت ) دکھاتے رہے تا کہ (وہ) مزید یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔“اس کی تفسیر میں شیعہ کتب میں لکھا ہے کہ جب اس دوران حضرت ابراہیم نے حضرت حسین کی شبیہ دیکھی تو گریہ شروع کر دیا اور جب عیسی نے حواریوں کے درمیان کربلا کا ذکر کیا اور سب رونے لگے اور حضرت موسی جب کوہ طور پر گئے تو حضرت حسین کی وجہ سے بار بار روئے (65)۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں اور اشعار میں اس قسم کے عقائد کا کماحقہ رڈ فرمایا ہے۔اس روز اٹارنی جنرل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امام حسین کی توہین کی ہے ، حضرت مسیح موعود کا یہ شعر پڑھا