دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 268 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 268

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 268 ”اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفے صلی املی کم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت صلی للی نام کے بارے میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بٹمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی صلی للی کم کا سخت مکذب تھا اور اس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں ، کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی۔۔۔“ (60) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف تحفہ قیصریہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔”اُس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو جو تھوڑے ہیں۔“ (61) ” اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ میسیج تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے 66 پیٹ سے ہیں۔“ (62)