دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 265
265 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تھی۔اور چند دہائیوں بعد یہ رپورٹ جو کہ خفیہ رکھی گئی تھی پاکستان کی حکومت کی مستعدی کے باعث بھارت پہنچ گئی اور وہاں شائع ہو گئی اور اس کے بعد پھر حکومت پاکستان بھی اس رپورٹ کو منظر عام پر لے آئی۔اب ہم رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اس میں یہ لکھا ہے کہ احمدی اس ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار تھے ؟ ہر گز نہیں۔اس رپورٹ میں کہیں جماعت احمدیہ پر یہ مضحکہ خیز الزام نہیں لگایا گیا۔اس رپورٹ میں اس سانحہ کا سب سے زیادہ ذمہ دار اس وقت کی حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے سربراہ جنرل یکی خان صاحب اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو قرار دیا تھا اور یہ سفارش کی تھی ان پر مقدمہ چلایا جائے۔اور اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ پاکستان کی افواج کی ہائی کمان نہ حالات کا صحیح تجزیہ کر پاری تھی اور نہ انہیں صحیح طرح ملک کو درپیش خطرات کا کوئی اندازہ تھا اور نہ افواج جنگ کرنے کے لیے کسی طور پر تیار تھیں۔مالی بد عنوانی کے الزامات اور غیر آئینی طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔دوران جنگ مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کی گئی۔آپریشن کے دوران مشرقی پاکستان میں قتل و غارت اور دیگر مظالم کی نشاندہی کی گئی۔اور حکومت سے کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ان امور پر تفصیلی تحقیقات بلکہ کھلا مقدمہ چلایا جائے اور قصوروار افراد کو سزا دی جائے اور اس کمیشن نے اس رپورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین پر بھی تنقید کی تھی کہ انہوں نے کیوں اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا اور کہا کہ وہ مغربی پاکستان سے کسی کو ڈھاکہ میں اسمبلی کے اجلاس میں شامل نہیں ہونے دیں گے اور اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے اُدھر تم ادھر ہم کا نعرہ کیوں لگایا تھا۔ان عوامل کی وجہ سے آئینی طریقوں کے راستے بند ہو گئے اور حالات بگڑتے گئے۔یہ رپورٹ حکومت کے حوالے کی گئی لیکن حکومت نے اس رپورٹ کو خفیہ رکھا اور عوام کو ان حقائق سے لا علم رکھا۔اور اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات بھی نہیں چلائے گئے