دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 264
264 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی اٹارنی جنرل صاحب جس جریدہ کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر جماعت احمدیہ کے خلاف یہ الزامات پڑھ رہے تھے، اس کے مطابق بہت سے لوگوں کے نزدیک چند سال پہلے پاکستان ٹوٹا تھا اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا تو اس کے ذمہ دار بھی احمدی تھے اور اس پس منظر میں اگر احمدیوں کے خلاف موجودہ فسادات شروع ہو گئے ہیں تو یہ بات قابلِ حیرت نہیں اگر چہ قابل مذمت ضرور ہے۔ہم یقینا اس بات سے متفق ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ اور پاکستان کا دو لخت ہو جانا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔اور جو گروہ بھی اس کا ذمہ دار تھا اس کو سزا ملنی چاہئے تھی۔لیکن ہم ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب سانحہ ہو چکا تھا تو اس کے معا بعد ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔اور اٹارنی جنرل صاحب اسی پارٹی کی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے اور اسمبلی کی اکثریت کا تعلق بھی اس پارٹی سے تھا۔جیسا کہ توقع تھی حکومت نے 26 دسمبر 1971ء کو جب کہ ابھی مشرقی پاکستان میں شکست کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا / تھا ایک کمیشن قائم کیا تاکہ وہ اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعین کرے۔اس کمیشن کی سربراہی پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے۔حمود الرحمن صاحب کا تعلق بنگال سے تھا۔پنجاب اور سندھ کے چیف جسٹس صاحبان اس کمیشن کے ممبر تھے اور عسکری پہلوؤں کے بارے میں مدد دینے کے لیے مکرم لیفٹینٹ جنرل الطاف قادر صاحب مقرر کئے گئے۔اس کمیشن نے تمام واقعات کی تحقیق کر کے 8 جولائی 1972ء کو اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی تھی۔یعنی اسمبلی کی اس کمیٹی کے کام شروع کرنے سے دو سال قبل حکومت کے پاس یہ رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار کون تھا۔اور اٹارنی جنرل صاحب جس حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے وہ بخوبی جانتی تھی کہ مجرم کون کون تھا۔مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر حکومت نے یہ رپورٹ شائع نہیں کی اور 1974ء میں یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی