دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 24
24 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس اقتباس سے یہ بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین ان انتخابی نتائج پر پیچ و تاب کھا رہے تھے۔پیپلز پارٹی کی جیت جماعت احمدیہ کے لیے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی لیکن انتخابات میں شکست نام نہاد مذہبی پارٹیوں کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ شورش کا شمیری صاحب کے نزدیک اگر احمدی ان سیاسی لیڈروں کی قانونی مخالفت کریں یا انہیں ووٹ نہ دیں جو جماعت احمدیہ کے خلاف بیان بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے اور یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے بھی محروم کر دیں گے تو یہ بھی ایک بہت بُری بات تھی۔گویا احمدیوں پر یہ فرض تھا کہ اپنے مخالفین کی مدد کرتے تاکہ وہ اقتدار میں آکر ان کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیتے۔کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ انتخابات میں فتح اور شکست تو ہوتی رہتی ہے۔دنیا میں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ لوگوں کو شکست کے بعد وقتی صدمہ تو ہوتا ہے لیکن اس سے ان کے لیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں بن جاتا۔آخر جماعت اسلامی اور پاکستان کی دیگر نام نہاد نہ ہی جماعتوں میں اس شکست کے بعد ماتم کیوں برپا ہو گیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جہاں تک اقتدار کی خواہش کا تعلق ہے تو وہ اس طبقہ میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ، اسی لیے اس شکست پر ان کی طرف سے ایسارڈ عمل ظاہر ہوا جس کے متعلق خود مولوی طبقہ بھی یہ اقرار کر رہا تھا کہ یہ رد عمل ان کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے۔چنانچہ 1970ء کے انتخابات میں شکست کے بعد ہفت روزہ چٹان میں جماعتِ اسلامی کے ایک حامی نے جماعت اسلامی کی ہمدردی میں ایک مضمون لکھا جس میں یہ اعتراف کیا:۔”۔۔۔۔۔۔جن لوگوں کو انتخابات سے قبل اس الیکشن کو حق و باطل کا معرکہ بتایا گیا تھا۔اب شکست کے بعد ان کے دلوں کو ٹولیے کہ ان پر کیا قیامت گزر گئی اور مرکز کے علاوہ مختلف علاقوں کے امید واروں اور ان کے حامیوں سے جو حرکات سرزد ہوئیں۔وہ بجائے خود جماعت اسلامی کے منشور اور دستورِ اسلام کے منافی تھیں۔جن سے نہ صرف یہ مقدس جماعت ہی ہدف تنقید بنی۔بلکہ اس سے دین اسلام کا دامن بھی داغدار ہوا۔“ (ہفت روزہ چٹان 15 فروری 1971ءص14) لیکن ان انتخابات سے مذہبی متعصب گروہ نے ایک اور سبق بھی حاصل کیا تھا اور وہ سبق یہ تھا کہ وہ انتخابات کے ذریعہ سے اقتدار حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اب انہیں حصول اقتدار کی خواہش پوری کرنے کے لیے اور سیاسی منظر پر دوبارہ اپنی