دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 257
257 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ارشاد فرمایا تو اس کے ساتھ اس کتاب کے ایڈیشن کے متعلق استفسار فرمایا کہ یہ مطبوعہ مصر ہے؟ اس پر بیچی بختیار صاحب نے اپنی خفت مٹانے کے لئے فرمایا:۔کیونکہ بعض مرزا صاحب کی کتابوں کے مختلف ایڈیشن ہیں اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔“ کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں کا ایک ہی ایڈیشن شائع ہوا تھا۔یقینا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں لیکن اگر ایک حوالہ نہ مل رہا ہو تو یہ حوالہ پیش کرنے والے کا فرض ہے کہ جس ایڈیشن سے حوالہ پیش کیا جا رہا ہے اس کی وضاحت کرے اور ان دو دنوں میں ان کی غلطیوں کا دائرہ صرف غلط ایڈیشن بتانے تک محدود نہیں تھا بلکہ بہت وسیع ہو چکا تھا۔اب انہوں نے حوالہ جات کے علم سے باہر نکل کر علم تاریخ کا رُخ کیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ایک جریدہ کا حوالہ پڑھنا چاہتے ہیں۔جریدہ کا نام Impact تھا اور یہ 27 جون 1974 ء کے شمارے کا حوالہ تھا۔ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا فرمانا چاہ رہے ہیں کہ حضور نے اس جریدہ کی اس تحریر کے متعلق ان سے استفسار فرمایا ?Who is the writer یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قولِ سدید سے فرمایا I really do not know یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔حضور نے اگلا سوال یہ فرمایا ?What is the standing of this publication یعنی اس اشاعت یا جریدہ کی حیثیت کیا ہے ؟ یعنی کیا یہ کوئی معیاری جریدہ ہے یا کوئی غیر معیاری جریدہ ہے۔اس کی حیثیت ایسی ہے بھی کہ نہیں کہ اس کے لکھے کو ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرمایا May be nothing at all, Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیں ہے۔خیر اس کے بعد حضرت