دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 249
249 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صفحہ 344 پر آئینہ کمالات ِ اسلام ہے تو اس میں ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا۔وہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے۔اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنائے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“ اس کے بعد انہوں یہ سوال اُٹھایا کہ اس عبارت کا ریفرنس ان کا (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا) Reference کس کی طرف ہے۔اپنی طرف یا آنحضرت صلی یم کی طرف؟ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے یہ اہم سوال اُٹھایا کہ اس کی ضمیر کس طرف جاتی ہے۔اشارہ واضح تھا لیکن آفرین ہے کہ سننے والوں کو سمجھ نہیں آیا۔ٹھایا کہ یہ حوالہ پڑھنے کے بعد پاکستان کی قابل اسمبلی میں نہایت قابل اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اہم سوال اُ تو یہ Reference آنحضرت کی طرف ہے ان کا یا اپنے سے مراد ہے؟“ حضور نے فرمایا کہ اسے چیک کریں گے۔اب ہم پورا حوالہ پیش کرتے ہیں:۔”اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ دجال اول نبوت کا دعویٰ کریگا پھر خدائی کا۔اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں که چند روز نبوت کا دعویٰ کر کے پھر خدا بننے کا دعویٰ کرے گا تو یہ معنی صریح باطل ہیں کیونکہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا