دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 242
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 242 سکے۔جن صاحب نے جو حوالہ پیش کیا ہے وہ اس کو Mag کر کے رکھے اور جب اٹارنی جنرل سوال کریں تو اسمبلی کے عملہ کا آدمی یہ حوالہ وفد کو پیش کرے۔لگے:۔اس مرحلہ پر مولوی غلام غوث ہزاروی کو خیال آیا کہ وہ بھی کوئی نکتہ بیان فرمائیں۔چنانچہ وہ کہنے ”جناب والا میں ایک چیز کے متعلق عرض کروں کہ ہم حوالہ جات اس وقت تیار رکھیں گے جب ہم کو اٹارنی جنرل کی طرف سے علم ہو کہ اب وہ کون سے سوالات کریں گے۔۔۔66 یہ نکتہ بھی خوب تھا۔مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب جیسے ممبران سوالات حوالہ جات سمیت پیش کر رہے تھے اور چند حوالے ابھی ابھی پیش کئے گئے تھے اور وہ بھی غلط نکلے۔جس نے سوال کیا تھا وہ حوالہ نکال کر اپنے پاس رکھ سکتا تھا تاکہ عند الطلب پیش کر سکے یا پھر کتاب سے نکال کر اٹارنی جنرل کو دے سکتا تھا تا کہ جماعت کے وفد کو دکھایا جا سکے۔اس کے بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے خفت مٹانے کی کوشش کی اور سپیکر صاحب کو کہا کہ انہوں نے یعنی حضور نے حقیقة الوحی والے حوالے کا انکار کیا ہے جب کہ یہ حوالہ یہاں پر موجود ہے اور سپیکر صاحب کو کہا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔آفرین ہے نورانی صاحب پر۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ کارروائی کے دوران ذہنی طور پر غیر حاضر تھے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے فرمایا تھا کہ اصل الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں یعنی معین عبارت نہیں پڑھی گئی اور اس کا علاج بہت آسان تھا اور وہ یہ کہ اصل عبارت پڑھ دی جاتی اور بس۔مگر ایسا نہیں کیا گیا اور جو الفاظ اٹارنی جنرل صاحب نے پڑھے تھے وہ معین الفاظ اس کتاب میں موجود نہیں ہیں۔صحیح طریق تو یہی ہے کہ حوالہ کی معین عبارت پڑھی جائے۔کتاب سامنے موجود تھی ،سادہ سی بات تھی کتاب اُ