دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 243
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 243 ٹھاتے اور معتین عبارت پڑھ دیتے۔لیکن اٹارنی جنرل پوری عبارت اس لئے نہیں پڑھ سکتے تھے کہ پوری عبارت کے سامنے آنے پر وہ اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا تھا جو وہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد جب کارروائی کارروائی شروع ہوئی تو حقیقۃ الوحی کے اسی حوالہ سے بات شروع ہوئی جس کا حوالہ وقفہ سے پہلے دیا جا رہا تھا۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب اب بھی پرانی غلطی پر مصر تھے۔انہوں نے ایک بار پھر معین عبارت پڑھنے کی بجائے اپنی طرف سے اس کا خلاصہ پڑھا البتہ اس مرتبہ یہ نہیں کہا کہ یہ حقیقة الوحی کے اس صفحہ پر لکھا ہے بلکہ یہ کہنے پر اکتفا کی کہ کسی تحریر میں لکھا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:۔کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں لکھا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ایک آنحضرت صلى الم سے انکار اور دوسرا مسیح موعود سے انکار۔“ حضور نے ان کی غلطی سے صرف نظر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے آگے کی عبارت خود اس کا مطلب واضح کر دیتی کیونکہ آگے لکھا ہے کہ جو با وجود اتمام حجت کے اس کو جھوٹا جانتا ہے۔حالانکہ خدا اور رسول نے اس کے ماننے کی تاکید کی ہے۔کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔کچھ دیر دیر بعد پھر اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات نے ایک عجیب رخ اختیار کر لیا۔اور یہ بحث اٹھا دی کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ کیا ہے ، یہ کوئی خفیہ امر نہیں۔جماعت کا وسیع لٹریچر بیسیوں زبانوں میں دنیا کے سو سے زائد ممالک میں اچھی طرح معروف ہے۔ہر کتاب میں ، ہر تحریر میں کوئی ایک صدی سے یہی لکھا ہوا ملے گا کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ لا الہ الا الله محمّدٌ رَّسُول اللہ ہے۔دنیا بھر کے دو سو کے قریب ممالک میں کسی احمدی بچے سے بھی پوچھ لیں تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہمارا کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے۔لیکن اس کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب ایک تصویر اٹھا لائے جو کہ نائیجیریا کے ایک شہر اجیبو اوڈے میں جماعت کی