دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 194
194 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس وضاحت کے بعد بھی اٹارنی جنرل صاحب یہ گفتگو چلاتے رہے اور ان لوگوں کے متعلق سوال کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اتمام حجت کے بعد نبی نہیں مانتے۔اس پر حضور نے پھر جواب دیا کہ "جو شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب کوئی نہیں مانتا لیکن وہ حضرت نبی اکرم خاتم الانبیاء صلی نیلم کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے اس کو کوئی شخص غیر مسلم کہہ ہی نہیں سکتا۔“ پھر حضور نے فرمایا:۔”ہر وہ شخص جو محمد علی ای نیم کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔۔۔اور۔۔۔اور کسی دوسرے کا حق نہیں ہے کہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔“ 5/ اگست کی کارروائی کے اختتام پر بھی اس موضوع پر سوالات ہوئے۔اٹارنی جنرل صاحب کی کوشش کہ جماعت احمدیہ کا وفد اس موقف کا اظہار کرے کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک جو مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں وہ ملت اسلامیہ میں شمار نہیں ہوتے اور وہ آنحضرت صلی ا یلم کی امت کا حصہ نہیں ہیں اور غیر مسلم ہیں اور اسی طرح کی کوشش اس وقت بھی کی گئی تھی جب 1953ء کی انکوائری میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر سوالات کئے گئے تھے۔ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جن کے متعلق چودہ سو سال سے کفر کے فتوے دیئے جا رہے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نے فرمایا:۔” اس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان کے بعض کام ہمارے نزدیک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیارے نہیں۔66 یحی بختیار : یعنی وہ مسلمان پھر بھی رہتے ہیں؟