دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 175 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 175

175 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری فعل سے ثابت کرے گا کہ کون مومن اور کون کافر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی جب اس قسم کے شور پڑتے تھے تو آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہاں کیوں شور مچاتے ہو امن سے آشتی سے اور صلح سے زندگی گزارو۔جب ہم اس دنیا سے گزر جائیں گے اور خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو خود پتہ چل جائے گا کہ کون مومن ؟ اور کون کافر ؟“ (خطبات ناصر جلد 5ص574) بہر حال اس خطبہ جمعہ کا یہ فقرہ پڑھ کر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ اگر اس کے باوجود کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، اگر میں یاکوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آپ مسلمان نہیں تو کیا یہ آپ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی ؟ وو اس کے بعد خدا جانے وہ کیا سوال اُٹھانے لگے تھے ؟ اس پر حضور نے ایک بنیادی فرق کی نشاندہی فرمائی اور فرمایا:۔”یہاں یہ سوال نہیں زید بکر کو مسلمان کہتا ہے یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت کا حق ہے کہ کسی کو دنیاوی لحاظ سے ، سیاسی لحاظ سے ، غیر مسلم قرار دے دے اور اس کا اعلان کر دے؟“ غالباً يحي بختیار صاحب یہ نکتہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ صدیوں سے علماء کفر کے فتاویٰ دیتے چلے آ رہے ہیں تو اب یہ کیسے ناجائز ہو گیا؟ اس موقع پر ان کا ذکر کر کے کفر کے فتاویٰ کے بارے میں حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے فرمایا: ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان فتاویٰ کا یہ مطلب ہے کہ ان کے نزدیک جن پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے ان کے اعتقادات یا اعمال اللہ کو پسند نہیں اور قیامت کے دن ان سے مواخذہ کیا جائے گا۔ہمارے نزدیک فتاویٰ