دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 173
173 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کی مشینری فسادات کو روکنے کی بجائے نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی بلکہ کئی مقامات پر مفسدین کی اعانت کر رہی تھی اور یہ سب ظلم کرنے کے بعد اب جب جماعت کا وفد اپنا موقف پیش کر رہا تھا تو اس وقت ان کے سامنے یہ پیشکش رکھی جا رہی تھی کہ تم اپنے ضمیر کے خلاف ملک کے آئین کے خلاف اسلام کی تعلیمات کے خلاف فیصلہ قبول کر لو تو ہم تمہیں تمہارے کچھ حقوق دے دیں گے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تمہارے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔کوئی بھی صاحب ضمیر اس قسم کے گئے گزرے ہتھکنڈوں کی تائید نہیں کر سکتا۔ان کا موقف تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم اس ملک کے شہری ہو۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر حال میں تمہارے حقوق کی حفاظت کی جائے۔تمہارا عقیدہ جو بھی ہو اس سے تمہارے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کے علاوہ انہوں نے تسلی دلائی کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بھی آپ اپنے مذہب کو profess, practice اور propagate کر سکتے ہیں۔یہ بھی صرف دکھانے کے دانت ہی تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ایک ملک یا ایک معاشرے میں مذہبی تنگ نظری کا سفر شروع ہو جائے تو یہ معاشرہ گرتے گرتے ایک مقام پر رکتا نہیں بلکہ تنگ نظری کی کھائی میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔جب تک کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے واپسی کا سفر شروع نہ کرے۔پاکستان بھی تنگ نظری کی کھائی میں گرتا چلا گیا۔اور 1984ء کے آرڈینس میں جماعت سے اپنا مذہب profess, practice اور propagate کرنے کے حقوق چھینے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ تعصب صرف جماعت احمدیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور اس وقت سے اب تک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کے حقوق محفوظ نہیں رہے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آپ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو اس سے آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔اس پر حضور نے واضح طور پر فرمایا Then we do not want our rights to be protecetd۔