دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 172 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 172

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 172 لیکن اس کے بعد انہوں نے جو تفصیلی دلائل بیان کئے وقت نے ان دلائل کو غلط ثابت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد احمدیوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگر آپ کو غیر مسلم نہ قرار دیا گیا تو آپ کے حقوق محفوظ رہیں گے کہ نہیں۔ان کے معین الفاظ یہ تھے:۔No, once you are declared a minority, your rights are protected, Mirza Sahib۔۔۔If you are not declared a minority then I am not sure if your rights will be protected۔یعنی مرزا صاحب! ایک مرتبہ آپ کو اقلیت قرار دے دیا جائے تو آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔اگر آپ کو اقلیت نہ قرار دیا گیا تو پھر میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آپ کے حقوق محفوظ رہ سکیں گے۔ایک ملک کے ممبران پارلیمنٹ کے سامنے اٹارنی جنرل کے منہ سے یہ جملہ اس ملک کے آئین کی ہی تو ہین تھی یعنی اگر کوئی فرقہ اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو پارلیمنٹ میں اٹارنی جنرل صاحب فرما رہے تھے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے حقوق محفوظ رہیں گے کہ نہیں۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر ملک میں آئین اور قانون کا فائدہ ہی کیا ہے۔پھر اس آئین میں مذہبی آزادی بلکہ کسی قسم کی آزادی کا ذکر ہی فضول ہے۔یہ عجیب نامعقولیت تھی کہ ایک ملک کا اٹارنی جنرل ملک کی قانون ساز اسمبلی میں یہ کہہ رہا ہے کہ اگر آپ نے اپنے ضمیر کے مطابق اپنے مذہب کا اعلان کیا تو آپ کے حقوق کی کوئی ضمانت حکومت نہیں دے سکتی لیکن اگر آپ نے جھوٹ بولا اور اپنے ضمیر کے خلاف کسی اور نام سے اپنے مذہب کو منسوب کیا تو پھر ہم آپ کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔اس گفتگو کا ایک پس منظر ہے۔جب قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں یہ کارروائی ہو رہی تھی تو اس وقت کچھ ماہ سے پورے پاکستان میں احمدیوں کو قتل کیا جا رہا تھا، ان کے اموال لوٹے جا رہے تھے ، ان کے گھروں کو آگئیں لگائی جا رہی تھیں اور اس وقت حکومت