دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 169
169 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کیوں پیش نہیں کر رہے تھے۔کبھی ایک مثال پیش کرتے تھے اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر بالکل مختلف مثال پیش کر دیتے تھے۔دورانِ گفتگو انہیں خود بھی احساس ہو رہا تھا کہ وہ غلطی پر غلطی کر رہے ہیں اور انہیں خود کہنا پڑا یعنی میں آپ کو صرف ایک نامعقول مثال پیش کر رہا ہوں I am just giving you a ridiculous example اب ہر پڑھنے والا یہ دیکھ سکتا ہے کہ نامعقول اور افسانوی مثالوں کو بنیاد بنا کر کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، کوئی سنجیدہ رائے نہیں دی جا سکتی اور نہ کسی نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔اس صورت حال کے پس منظر میں اس سیشن کے اختتام پر حضور نے فرمایا:۔I have already humbly submitted so many times that these extreme examples, these imaginary examples, cannot solve the problem we are facing today۔Let us face the facts۔یعنی میں پہلے بھی کئی مرتبہ عاجزی سے یہ کہہ چکا ہوں کہ یہ فرضی مثالیں اور یہ انتہائی نوعیت کی مثالیں ان مسائل کو حل نہیں کر سکتیں جن کا ہمیں آج سامنا ہے۔ہمیں حقائق کا سامنا کرنا چاہئیے۔اب تک جماعت کے مخالفین پر یہ امر واضح ہو چکا تھا کہ یہ بحث ان کی توقعات کے مطابق نہیں جارہی اور جماعت احمدیہ پر گرفت کرنے کا موقع نہیں پا رہے۔چنانچہ شاہ احمد نورانی صاحب نے سپیکر اسمبلی کو کہا کہ جو سوال کیے جاتے ہیں یہ ان کا معتین جواب نہیں دیتے ، ان کو پابند کیا جائے کہ وہ معین جواب دیں۔اور یہ