دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 170
170 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری الٹا اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کر کے ٹال دیتے ہیں۔یہ طریق غلط ہے انہیں پابند کیا جائے کہ یہ جواب پورا دیں۔ایک اور ممبر نے یہ شکوہ کیا کہ لگتا ہے کہ یہ جرح کر رہے ہیں۔اس پر سپیکر اسمبلی نے کہا کہ ان کا اپنا طریقہ ہے۔He has got his own methods اب یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس سیشن کے اختتام پر ایسی فرضی مثالیں پیش کر کے سوال کئے گئے تھے جن مثالوں کے بارے میں خود اٹارنی جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ وہ نامعقول مثالیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نامعقول مثالوں کو سامنے رکھ کر تو کوئی معین جواب نہیں دیا جا سکتا۔اس مرحلہ پر چھ بجے شام تک کے لیے کارروائی ملتوی کر دی گئی۔چھ بجے شام کارروائی پھر شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب نے موضوع کی طرف آنے کی بجائے ایک بار پھر یہ سوال چھیڑ دیا کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کیا ہے۔اس پر آخر کار حضور نے فرمایا کہ میں کوئی بھی عدد وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔مختلف لوگوں نے ہے۔اس جو پاکستان میں احمدیوں کی تعداد بیان کی ہے وہ صرف اندازے ہیں اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اگر پانچ آدمیوں پر بھی ظلم کیا جائے تو وہ بھی اتنا ہی بُرا ہو گا۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی گفتگو کا رخ ایک اور طرف پھیرا۔اگرچہ بظاہر ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے بلکہ ابھی بحث اپنے اصل موضوع پر بھی نہیں آئی تھی لیکن یحیی بختیار صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو اس سے ان کے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اوّل تو یہ بات ہی لایعنی تھی کہ ایک فرقہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے اور ایک سیاسی اسمبلی یہ فیصلہ کر دیتی ہے کہ