دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 167
167 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the collective and individual spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam۔۔۔۔۔۔۔۔اس بنیاد پر وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت اور قانون سازی کا اختیار ہے۔اس پر حضور نے یہ نشاندہی فرمائی کہ اس کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ ہر فرقہ اور ہر گروہ کو اپنے اپنے نظریات اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی اور سہولت دی جائے گی اور يحي بختیار صاحب اگر صرف اس Preamble کو ہی پورا پڑھ لیتے تو انہیں احساس ہو جاتا کہ ان کی دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ جس سطر کا وہ حوالہ دے رہے تھے،اس سے اگلی سطر ہے:۔Wherein adequate provision shall be made for the minorities freely to profess and practice their religions and develop their cultures۔اب يحجي بختیار صاحب خواہ اپنے ذہن میں احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے یا کوئی غیر مسلم اقلیت تصور کر رہے تھے ، یہ Preamble یہی اعلان کر رہا تھا کہ احمدیوں کو جو بھی ان کا مذہب ہے اس کا اعلان کرنے ، اس پر عمل کرنے کی مکمل اجازت ہے۔اور احمدیوں کا ہمیشہ سے اعلان ہے کہ ان کا مذہب اسلام اور صرف اسلام ہے۔اور اسPreamble کی رو سے بھی انہیں اس بات کی پوری آزادی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں ، اس کا اعلان کریں اور اس پر عمل کریں۔پارلیمنٹ کو یا حکومت کو یا کسی اور کو یہ حق نہیں تھا کہ ان کو کسی اور مذہب کی طرف منسوب کرے۔ابھی یحییٰ بختیار صاحب نے یہ دلیل ختم ہی کی تھی کہ انہوں نے اپنی ہی دلیل کا رد کر ڈالا اور خود فرمایا