دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 161 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 161

161 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری آزادی ہے کہ وہ جو چاہے مذہب اختیار کرے اور اس پر عمل کرے۔یہی حق " European Convention on Human Rights" کے آرٹیکل نمبر 9 میں بھی دیا گیا ہے۔اسی طرح دنیا بھر کے آئین بھی اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 20 کے تحت بھی ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا آئینی ترمیم کے ذریعے کسی کے مذہب کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔Article 20 آئین کے 2 Chapter کے پہلے حصہ میں شامل ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے۔یہ وہ حقوق ہیں جن کو آئین میں خاص حیثیت حاصل ہے اور کوئی قانون جو ان کے خلاف ہو غیر قانونی اور غیر آئینی متصور ہوتا ہے۔برصغیر کے کچھ ملکوں کی عدالتوں نے ایسی آئینی ترامیم کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے جو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہوں۔اس سلسلہ میں بھارتی اور بنگلہ دیش سپریم کورٹ نمایاں ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے 2007ء میں دیئے گئے فیصلہ میں آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کو بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا ہے۔(Coehlo Versus State of Tamil Nado (2007) 2SCC1) اسی طرح بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے اصول پر آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا ہے۔(Anwar Hossain Chaudhury VS Bangla Desh 1989, 18CCC (AD)J) آئین کا آرٹیکل 20 پہلے دن سے آئین کا حصہ ہے اور بنیادی حقوق کے Chapter میں شامل ہے۔مذہبی آزادی عالمی طور پر ثابت شدہ حق ہے اور ان حقوق میں ہے جو ایمر جنسی کے دوران بھی معطل نہیں ہوتے۔Article 233 & 233 Constitution of Pakistan یہ ان حقوق میں شامل ہیں جو آئین کے بنیادی