دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 143 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 143

143 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دینا ہے؟ حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے جب کارروائی میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانا ہوتا تو حالات کے پیش نظر اس کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا اور جس روز جانا ہوتا اس روز صبح کے وقت حضور ارشاد فرماتے اور پھر قافلہ روانہ ہوتا۔اسلام آباد میں حضور کا قیام ونگ کمانڈر شفیق صاحب کے مکان میں ہوتا تھا۔اس کارروائی کے آغاز سے قبل حضور کو اس کے بارے میں تشویش تھی۔اس فکرمندی کی حالت میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا:۔وسع مكانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ یعنی اپنے مکان کو وسیع کر ، ہم استہزاء کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔اس پر آشوب دور میں اللہ تعالیٰ یہ خوش خبری عطا فرما رہا تھا کہ آج حکومت،طاقت اور اکثریت کے نشہ میں یہ لوگ جماعت کو ایک قابلِ استہزاء گروہ سمجھ رہے ہیں لیکن ان سے اللہ تعالیٰ خود نمٹ لے گا۔جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ترقیات کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔کوئی بھی غیر جانب دار شخص اگر بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات کا جائزہ لے اور اس مختصر کتاب میں بھی ہم اس بات کا جائزہ پیش کریں گے کہ جن لوگوں نے بدنیتی سے اس کارروائی کو شروع کیا اور پھر بزعم خود احمدیوں کو کافر قرار دیا یا کسی رنگ میں بھی استہزاء کی کوشش کی ان کا انجام کیا ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف خدا کا ہاتھ تھا جس نے ان پر پکڑ کی اور ان کو دنیا کے لئے ایک عبرت کا سامان بنا دیا۔یہ کسی دنیاوی کوشش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خدا ان کی شرارتوں کے لئے کافی تھا۔