دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 142
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 142 قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی میں کارروائی جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ راہبر کمیٹی کے بعد یہ معاملہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں پیش ہونا تھا اور اس کمیٹی کی صورت یہ تھی کہ پوری قومی اسمبلی کو ہی پیشل کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جماعت مبائعین اور غیر مبائعین دونوں کے وفود اس کمیٹی میں آئیں اور ان پر سوالات کیے جائیں۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے لکھا گیا کہ ہم اس بات میں آزاد ہیں جن ممبران ر مشتمل وفد چاہیں مقرر کریں کہ وہ اس کمیٹی میں اپنا موقف بیان کرے لیکن حکومت کی طرف سے اصرار تھا کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث لازماً اس وفد میں شامل ہوں۔اس صورت حال میں پانچ اراکین پر مشتمل وفد تشکیل دیا گیا جس میں حضرت خلیفة المسیح الثالث " کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب ، حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔اس اہم کارروائی کے لیے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے سب سے زیادہ دعاؤں سے ہی تیاری کی تھی۔خلافت لائبریری سے کچھ کتب منگوائی گئیں اور حضرت قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم کے کتب خانہ کی کتب بھی منگوائی گئیں۔لیکن حضرت خلیفة المسیح الثالث کی ہدایت تھی کہ حضور کی اجازت کے بغیر یہ کتب کسی کو نہ دی جائیں۔وفد کے بقیہ اراکین میٹنگ کر کے اس مقصد کے لیے بڑی محنت سے تیاری کر رہے تھے اور جو اعتراضات عموماً کیسے جاتے ہیں ان کے جوابات بھی تیار کیے گئے۔چند میٹنگز میں حضرت خلیفة المسیح الثالث " بھی شامل ہوئے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث نے اس بات کا اظہار بار ہا فرمایا کہ اس کارروائی کے دوران نہ صرف اللہ تعالی کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ کیا اور کس طرح جواب دینا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کب اس کا جواب