دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 132
132 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کیم جولائی سے پندرہ جولائی تک کے حالات ایک طرف تو ان کمیٹیوں میں کارروائی ان خطوط پر جاری تھی اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔اور یہ سب کچھ علی الاعلان ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ اخبارات میں طالب علم لیڈروں کے بیانات شائع ہو رہے تھے کہ نہ صرف کسی قادیانی طالب علم کو تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا بلکہ جن قادیانی طالب علموں نے امتحان دینا ہے انہیں اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ امتحانات دے سکیں۔اور یہ بیانات شائع ہو رہے تھے کہ اہل پیغام میں سے کچھ لوگ کچھ گول مول اعلانات شائع کر کے اپنے کاروبار کو بائیکاٹ کی زد سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے اعلانات کو صرف اس وقت قبول کیا جائے گا جب وہ اپنے اعلانات میں واضح طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور کاذب کہیں ورنہ ان کے کاروبار کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔اور اس کے ساتھ یہ مضحکہ خیز اپیل بھی کی جارہی تھی کہ عوام پر امن رہیں۔گویا ان لوگوں کے نزدیک یہ اعلانات ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے تھے۔(37) یکم جولائی سے پندرہ جولائی 1974 ء تک کے عرصہ میں بھی ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم جاری رہے۔اس دوران مخالفین احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کو شدید تر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے تا کہ اس طرح احمدیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں عقائد کی تبدیلی پر مجبور کیا جاسکے۔بہت سے شہروں میں غنڈے مقرر کیے گئے تھے کہ وہ احمدیوں کو روز مرہ کی اشیاء بھی نہ خرید نے دیں اور جہاں کوئی احمدی باہر نظر آئے تو اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ روار کھا جاتا۔کئی مقامات پر احمدیوں کا منہ کالا کر کے انہیں سڑکوں پر پھرایا گیا اور یہ پولیس کے سامنے ہوا اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔احمدیوں کی دوکانوں کے باہر بھی غنڈے مقرر کر دیئے جاتے جو لوگوں کو احمدیوں کی دوکانوں سے خریداری کرنے سے روکتے۔سر گودھا، دیپالپور اور بھیرہ میں احمدیوں کے مکانوں کے ارد گرد محاصرہ کی صورت پیدا ہو گئی۔اور 13 / جولائی کو تخت ہزارہ میں احمدیوں کے بارہ مکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔بائیکاٹ کی صورت کو شدید تر بنانے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ بھنگیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ احمدیوں کے مکانات کی صفائی نہ کریں اور بعض مقامات پر ڈاکٹروں نے احمدی مریضوں کا علاج کرنے سے بھی انکار کر دیا۔لائلپور اور بوریوالہ میں بعض صنعتوں کے مالکان نے احمدیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ڈسکہ میں احمدیوں کے کارخانے