دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 129
129 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہ احادیث درج کر کے محضر نامہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ اپیل کی گئی ”ہمارے مقدس آقا کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضور نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالم اسلام کے اتحاد کی بین الا قوامی بنیا درکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ امتِ مسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ ہمیشہ بکھر رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔“ (محضر نامه ص 19) اس معیار کو تسلیم کر لینے کے بعد ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مختلف فرقوں کے علماء ہمیشہ سے ایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ دیتے رہے ہیں اور مختلف اعمال کے مرتکب کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے رہے ہیں، تو ان فتاوی کی کیا حیثیت ہو گی۔محضر نامہ میں جماعت احمدیہ کا یہ موقف درج کیا گیا کہ ان فتاوی کی صرف یہ حیثیت ہے کہ ان علماء کے نزدیک یہ عقائد یا اعمال اس قدر اسلام کے منافی ہیں کہ قیامت کے روز ان کا حشر مسلمانوں میں نہیں ہو گا لیکن جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے ان فتاوی کی صرف ایک انتباہ کی حیثیت ہے اور اس دنیا میں کوئی فرقہ یا شخص اس بات کا مجاز ، اس بات کا اہل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص یا گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور اس کا فیصلہ جز اسزا کے دن ہی ہو گا۔ورنہ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتاویٰ اس کثرت سے موجود ہیں کہ کسی ایک صدی کے بزرگان دین کا اسلام ان کی زد سے نہیں بچ سکا اور کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں پیش کیا جا سکتا جس کا کفر بعض دوسرے فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔محضر نامه ص 20-21) اس سے اگلے باب کا عنوان تھا مقام خاتم النبیین اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عارفانہ تحریرات"۔اس باب میں اس الزام کا تجزیہ پیش کیا گیا تھا کہ احمدی آنحضرت کے مقامِ ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔اس باب میں مخالفین کے اس تضاد کی نشاندہی کی گئی تھی کہ جو مخالفین احمدیوں پر یہ الزام لگا رہے ہیں وہ در حقیقت خود آنحضرت کے مقام خاتم النبیین کا انکار کر رہے ہیں کیونکہ وہ آنحضرت کے بعد امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے ایک ایسے نبی کے منتظر ہیں جس کا تعلق آنحضرت کی