دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 128 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 128

128 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سے یہ صورت حال سامنے آرہی تھی کہ اگر چہ یہ گروہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے تو فسادات بر پا کر رہا تھا لیکن ان کے ذہنوں میں خود یہ واضح نہیں تھا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟ اس پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں یہ تبصرہ تھا:۔” ان متعدد تعریفوں کو جو علماء نے پیش کی ہیں پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے ؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی روسے کا فر ہو جائیں گے۔(رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 (اردو) ص 235-236) اس تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا حوالہ دینے کے بعد جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ اگر مسلمان کی تعریف کا تعین کرنا ہے تو ہمیں لازما حضرت محمد مصطفے کی بیان کردہ تعریف کو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ یہ بالکل لا یعنی بات ہو گی کہ مسلمان کی تعریف کی جائے لیکن اس تعریف کو تسلیم نہ کیا جائے جو کہ آنحضرت نے بیان فرمائی تھی اور اس ضمن میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تین احادیث پیش کی گئیں۔ان میں سے ایک حدیث میں آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ یہ گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کر و اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔اور پھر صحیح بخاری میں یہ حدیث درج ہے (مسلم کتاب الایمان) ”جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں۔اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھا یا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذقے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔“ ( صحیح بخاری۔باب استقبال القبلۃ)