دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 125
125 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جماعت احمدیہ کا محضر نامہ اس مرحلہ پر مناسب ہو گا کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کا مختصر جائزہ لیا جائے۔یہ محضر نامہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی ہدایات کے تحت تیار کیا گیا تھا اور ایک ٹیم نے اس کی تیاری پر کام کیا تھا۔ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر اور حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اسے سپیشل کمیٹی کے مطالعہ کے لیے بھجوایا گیا تھا اور اس میں بہت سے بنیادی اہمیت کے حامل اور متنازعہ امور پر جماعت احمدیہ کا موقف بیان کیا گیا تھا۔یہ جماعت احمدیہ کا وہ موقف تھا جو کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں پڑھ کر سنایا۔اس محضر نامے میں جماعت احمدیہ کا اصولی موقف بیان کیا گیا تھا اور یہ متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان کی قومی اسمبلی ، پاکستان کی حکومت اور پاکستانی قوم اس راستہ پر چلی تو اس کا انجام کیا ہو گا؟ اس کے پہلے باب میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی مذکورہ قرار دادوں پر ایک نظر ڈال کر یہ اصولی سوال اُٹھایا گیا تھا کہ آیاد نیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہ اس بات کی مجاز ہے کہ الول: کسی شخص کا یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔دوم: یا مذ ہبی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذ ہب ہے؟ پھر اس محضر نامہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے اس اہم سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا:۔” ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ و نسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ کے دستور العمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو۔