دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 122
122 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پندرہ جولائی کو وزیر قانون نے ایک پریس کانفرنس میں ان کمیٹیوں کی کار گزاری بیان کی۔انہوں نے پریس کو بتایا کہ راہبر کمیٹی میں حکومتی اراکین کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت العلماء اسلام اور جمعیت العلماء پاکستان کے اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔لاہور اور ربوہ دونوں کی جماعتوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنا تحریری موقف جمع کرائیں۔ربوہ کی جماعت کی طرف سے 198 صفحات پر مشتمل ایک کاپی موصول ہوئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ15 / جولائی تک اس کی 250 کا پیاں جمع کرائیں۔اور دونوں جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان پر اپنی جماعتوں کے سربراہوں کے دستخط کرائیں۔مختلف افراد کی طرف سے 514 تحریری آراء موصول ہوئی ہیں جن میں سے 268 قادیانیوں کے خلاف اور 246 قادیانیوں کے حق میں ہیں۔اس کے علاوہ مختلف تنظیموں کی طرف سے تحریری آراء موصول ہوئی ہیں۔ان میں سے 11 قادیانیوں کے خلاف اور 4 قادیانیوں کے حق میں اور ایک غیر جانبدار ہے۔پیر زادہ صاحب نے کہا کہ مختلف حکومتوں کی امداد یافتہ تنظیموں کی طرف سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اظہارِ خیال کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔لیکن ابھی ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے اور سابقہ حکومتیں اسے حل نہیں کر سکی تھیں۔راہبر کمیٹی نے اپنی تجاویز سپیشل کمیٹی میں بھجوائی تھیں اور سپیشل کمیٹی نے انہیں منظور کر لیا ہے۔دونوں جماعتوں کے وفود کے موقف کو سنا جائے اور ان وفود میں ان جماعتوں کے سر بر اہان کو بھی شامل ہونا چاہئے۔اس کے بعد سپیشل کمیٹی کے اراکین اٹارنی جنرل کی وساطت سے ان وفود سے سوالات کر سکتے ہیں۔(36) جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ قومی اسمبلی کے اراکین اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے سوال کریں گے یعنی وہ سوال لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیں گے اور اٹارنی جنرل صاحب وفد سے سوال کریں گے۔بیٹی بختیار صاحب نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں 74ء کی کارروائی کے متعلق ایک انٹرویو دیا اور اس میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو خیال تھا کہ اگر مولوی ہم سے سوال کریں گے تو ہماری بے عزتی کریں گے اس لئے جے اے رحیم نے یہ تجویز دی کہ سوالات اٹارنی جنرل کی وساطت سے پوچھے جائیں۔( تحریک ختم نبوت جلد سوم، ص 872، مصنفہ اللہ وسایا صاحب، ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان، جون 1995ء)