دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 112 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 112

112 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہے کہ وہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے اندر میں وہابی ہوں یا اہل حدیث ہوں یا اہل قرآن ہوں یا بریلوی ہوں (وغیرہ وغیرہ تہتر فرقے ہیں) یا احمدی ہوں تو یہ ہے مذہبی آزادی۔۔۔۔۔۔پس ہز ار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت نے اور سرشت نے حق نہیں دیا جس کا تمہیں حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا، جسکا تمہیں یو این او کے Human Rights نے (جس پر تمہارے دستخط ہیں) حق نہیں دیا، چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کوئی شخص Profess کچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اور کر دیا جائے۔میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں، کون ہے دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیں ہو۔یہ کیسی نامعقول بات ہے۔یہ ایسی نامعقول بات ہے کہ جو لوگ دہر یہ تھے انہیں بھی سمجھ آگئی۔پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا۔۔“ (27) ایک طرف تو جماعت احمدیہ کے متعلق حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارادے اچھے نہیں معلوم ہورہے تھے اور دوسری طرف ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جارہا تھا تا کہ وہ اس دباؤ کے تحت اپنے عقائد ترک کر دیں۔لیکن جب ابتلاؤں کی شدت اپنی انتہا پر پہنچی ہو تو ایک عارف باللہ یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ان مشکلات کے ساتھ اللہ کی نصرت آرہی ہے۔چنانچہ 28 جون کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا:۔وو ” ہمارا زمانہ خوش رہنے ، مسکراتے رہنے اور خوشی سے اچھلنے کا زمانہ ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے کہ اس زمانہ میں نبی اکرم کا جھنڈا دنیا کے ہر ملک میں گاڑا جائے گا۔اور دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے دل کی دھڑکنوں میں محمد کی محبت اور پیار دھڑ کنے لگے گا۔اس لئے مسکراؤ!۔مجھے یہ خیال اس لئے آیا کہ بعض چہروں پر میں نے مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ہمارے تو ہنسنے کے دن ہیں۔نبی اکرم کی فتح اور غلبہ کی جسے بشارت ملی ہو وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھ کر دل گرفتہ نہیں ہوا کرتا اور جو دروازے ہمارے لیے کھولے گئے ہیں وہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔“(28) جماعت احمدیہ کی مخالفت اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ ان فسادات کے دوران ایک گیارہ برس کے احمدی بچے کو بھی جگہ نامی گاؤں سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس اس بچے کو گر فتار کرنے کے لئے آئی تو سپاہی ہتھکڑی لگانے لگے۔بچے کی عمر اتنی چھوٹی