دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 105
105 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لوگ نہ 1953ء میں اس بات کا کوئی ثبوت پیش کر سکے، نہ 1974ء میں اس الزام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کوئی مثال پیش کر سکے اور نہ آج تک اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کوئی معقول ثبوت پیش کیا گیا ہے۔نصف صدی سے زائد عرصہ بیت گیا بغیر ثبوت کے ایک بات ہی دہرائی جارہی ہے کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پچاس سال پہلے کچھ احمدیوں کو ناجائز طور پر وزارت خارجہ میں بھرتی کر لیا تھا۔اس دوران Associated Press نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث سے انٹر ویو لیا۔اس انٹرویو میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ ان فسادات کے پیچھے حکومت پاکستان کا ہاتھ کار فرما ہے۔آپ نے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تباہ و برباد نہیں کر سکتی۔دنیا کے پچاس ممالک میں احمدیت موجود ہے۔اگر پاکستان میں احمدی ختم بھی کر دیئے جائیں تو باقی دنیا میں موجود در ہیں گے۔(20) جماعت کے مخالف مولویوں نے 14 / جون 1974ء کو ایک ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی۔ملکی اخبارات میں مختلف تجارتی تنظیموں اور مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری تنظیموں کی طرف سے اعلانات شائع ہو رہے تھے کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھے جائیں اور نہ ہی کسی قسم کا لین دین کیا جائے۔اور ملک کا ایک حصہ اس مہم میں حصہ بھی لے رہا تھا۔اس مرحلہ پر حکومت وقت کے جو اعلانات شائع ہو رہے تھے ان کی روش کا اندازہ ان مثالوں سے ہو جاتا ہے۔12 / جون کو وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے صاحب نے بیان دیا کہ حکومت قادیانیت کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ جماعت احمدیہ اور دیگر فرقوں کا مذ ہبی اختلاف ایک مذہبی معاملہ ہے لیکن حنیف رامے صاحب یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ یہ حکومت کا کام ہے مذہبی اختلافات کے معاملات کا مستقل حل تلاش کرے۔اس کے ساتھ رامے صاحب نے شورش برپا کرنے والوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ امیر جماعتِ احمد یہ کو شامل تحقیق کر لیا گیا ہے۔اور پھر اعلان کیا کہ ہمارے اور عامتہ المسلمین کے جذبات اور عقائد ایک ہیں اور پھر یہ خوش خبری سنائی کہ صوبہ پنجاب میں مکمل امن و امان قائم ہے اور پھر مولویوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن قائم کرنے کا کام اکیلے حکومت وقت نہیں کر سکتی تھی عوام کے شعور ، اخبارات اور علماء کے تعاون سے یہ کام ممکن ہوا ہے۔(21) جیسا کہ ہم پہلے ہی جائزہ لے چکے ہیں کہ جس وقت رامے صاحب نے یہ بیان دیا اس وقت پورے صوبے میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی، ان کے گھر اور املاک کو آگئیں لگائی جارہی تھیں اور لوٹا جارہا تھا لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کو