دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 104 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 104

104 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہندوستان کے مسلمانوں کا ہی ہے۔مگر یہ نظریہ انصاف کے مطابق نہیں ہو گا بلکہ اس اندھے تعصب کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ جن پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ان پر لگائے جانے والے الزاموں کی حقیقت کیا ہے۔یا پھر ہم یہ مثال لے سکتے ہیں کہ اگر کسی مغربی ملک میں وہاں کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں سے ناروا سلوک کرے اور ان کے خلاف جذبات کو خواہ مخواہ ہوادی جائے تو کیا لازما اس سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ قصور وار مسلمان ہی تھے۔کوئی بھی صاحب عقل اس فلسفہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ان کا دوسرا الزام بھی بہت دلچسپ ہے اور وہ یہ کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کیں۔اس سوال کے پس منظر میں یہ الزام بھی مضحکہ خیز ہے۔سوال تو یہ تھا کہ 9 جون 1974ء کو اپوزیشن نے جس میں پروفیسر غفور صاحب کی پارٹی بھی شامل تھی یہ مطالبہ کیوں کیا کہ احمدیوں کو کلیدی آسامیوں سے بر طرف کر دیا جائے تو اس کے جواب میں اس مطالبہ کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ اس مطالبہ سے کوئی پچیس سال پہلے ایک احمدی وزیر نے تعلقات کی بنا پر غلط بھرتیاں کی تھیں اس لئے 1974ء میں یہ مطالبہ پیش کرنا پڑا۔اور یہ الزام بھی غلط ہے کیونکہ اس وقت 1953ء کی عدالتی تحقیقات کے دوران جماعت اسلامی نے بھی اپنا بیان اور موقف پیش کیا تھا اور اس تحریری موقف میں بھی یہی الزام لگایا تھا کہ احمدیوں نے آزادی کے بعد اپنے آپ کو حکومتی اداروں میں بالخصوص ایئر فورس ، آرمی ، سفارت خانوں میں ، مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں مستحکم کر لیا تھا۔اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ وزارت خارجہ میں تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ تھے لیکن آرمی، ایئر فورس ، صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے سر براہ تو احمدی نہیں تھے۔یہ کس طرح ممکن ہوا کہ احمدی ان میں ناجائز تصرف حاصل کرتے گئے۔اور اگر وزارت خارجہ میں بھی ایسا ہوا تھا تو جماعت اسلامی نے اس کا ثبوت کیا پیش کیا تھا؟ جماعت اسلامی اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکی تھی۔وہ کون سے لوگ تھے جن کو سفارت خانوں میں ناجائز طور پر بھرتی کیا گیا تھا ؟ جماعت اسلامی تحقیقاتی عدالت میں کوئی ایک نام بھی پیش کرنے سے قاصر رہی تھی۔اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کی تھیں۔کوئی ایک مثال نہیں پیش کی گئی تھی۔اس لئے کہ اس بات کا کوئی ثبوت تھا ہی نہیں یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔جنرل ضیاء کے دورِ مارشل لاء میں پروفیسر غفور صاحب نے بھی وزارت قبول کی تھی۔اس وقت ان کے پاس موقع تھا کہ اس وقت احمدیوں کی مثالیں پیش کرتے جنہیں دوسروں کا حق مار کر میرٹ کے خلاف ملازمتیں دی گئی تھیں۔لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ احمدیوں کو تو کئی دہائیوں سے ان کے جائز حقوق سے بھی محروم کیا گیا، ان کو میرٹ کے خلاف ملازمتیں دینے کا تو سوال ہی نہیں پید ا ہو تا۔یہ