دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 8
8 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری "اگر تمام دنیا میری مخالفت میں درندوں سے بدتر ہو جائے تب بھی وہ میری حمایت کرے گا۔میں نامرادی کے ساتھ ہر گز قبر میں نہیں اتروں گا کیونکہ میرا اخدا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں۔میرے اندرون کا جو اُس کو علم ہے کسی کو بھی علم نہیں۔اگر سب لوگ مجھے چھوڑ دیں تو خدا ایک اور قوم پیدا کرے گا جو میرے رفیق ہوں گے۔نادان مخالف خیال کرتا ہے کہ میرے مکروں اور منصوبوں سے یہ بات بگڑ جائے گی اور سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا مگر یہ نادان نہیں جانتا کہ جو آسمان پر قرار پا چکا ہے زمین کی طاقت میں نہیں کہ اس کو محو کر سکے۔میرے خدا کے آگے زمین و آسمان کا نپتے ہیں۔خدا وہی ہے جو میرے پر اپنی پاک وحی نازل کرتا ہے اور غیب کے اسرار سے مجھے اطلاع دیتا ہے۔اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔اور ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ کو چلاوے اور بڑھاوے اور ترقی دے جب تک وہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلا دے۔ہر ایک مخالف کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو اس سلسلہ کے نابود کرنے کے لئے کوشش کرے اور ناخنوں تک زور لگاوے اور پھر دیکھے کہ انجام کار وہ غالب ہو ا یا خدا۔۔۔۔۔۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 128۔روحانی خزائن جلد 21ص294و295) جماعت احمدیہ کی سو سال سے زائد کی تاریخ میں بار بار ایسے مراحل آئے جب مخالفین نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے اور تمام دنیاوی اسباب استعمال کر کے کوشش کی کہ کسی طرح اس جماعت کو ختم کر دیا جائے۔جماعت کی تاریخ کا سر سری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ جب مخالفین نے یہ محسوس کیا کہ وہ دلائل سے جماعت احمد یہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان کو یہ نظر آنے لگا کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود یہ جماعت ترقی کی منازل طے کرتی چلی جارہی ہے تو پھر پہلے سے بھی زیادہ زہر یلا وار کرنے کی کوشش کی گئی اور اپنی دانست میں پہلے سے بھی زیادہ منظم سازش تیار کی گئی کہ کسی طرح اس جماعت کو ختم کر دیا جائے یا کم از کم اس کی ترقی کو روک دیا جائے۔جب ہم 1970ء کی دہائی کے آغاز کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک ایسا ہی منظر نظر آتا ہے۔حضرت مصلح موعود کی علالت کے سالوں کے دوران ہمیں مخالفین کے لٹریچر میں اس بات کے واضح آثار نظر آتے ہیں کہ وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ حضرت مصلح موعود کے بعد اب یہ جماعت ختم ہو جائے گی۔لیکن 1970ء کی دہائی کے آغاز میں مخالفین کو یہ نظر آرہا تھا کہ خلافت ثالثہ کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف جماعت احمد یہ ترقی کرتی چلی جارہی ہے بلکہ اس کے سامنے ترقی کے نئے نئے میدان کھلتے چلے جارہے ہیں۔1970ء کے دوران حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے مغربی افریقہ کا دورہ فرمایا۔اس وجہ