دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 80
80 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ” ہماری جماعت اس وقت مہدی اور مسیح علیہ السلام کی جماعت ہے اور وہ احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں دکھ نہیں دئے جائیں گے ، ہم پر مصیبتیں نازل نہیں کی جائیں گی۔ہماری ہلاکت کے سامان نہیں کئے جائیں گے ہمیں ذلیل کرنے کی کوششیں نہیں کی جائیں گی اور آرام (کے ساتھ ہم آخری غلبہ کو حاصل کر لیں گے وہ غلطی خوردہ ہے اس نے اس سنت کو نہیں پہچانا جو آدم سے لے کر آج تک انسان نے خدا تعالیٰ کی سنت پائی۔ہمارا کام ہے دعائیں کرنا۔اللہ تعالیٰ کا یہ کام ہے کہ جس وقت وہ مناسب سمجھے اس وقت وہ اپنے عزیز ہونے کا اپنے قہار ہونے کا جلوہ دکھائے اور کچھ کو ہلاک کر دے اور بہتوں کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے۔۔۔پس ہمارا کام اپنے لئے یہ دعا کرنا ہے کہ جو ہمیں دوسروں کے لیے دعائیں کرنے کے لیے تعلیم دی گئی ہے کہیں ہم اس کو بھول نہ جائیں۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں۔ہمارا کام غصہ پینا ہے۔ہمارا کام انتقام اور بدلہ لینا نہیں ، ہمارا کام معاف کرنا ہے۔ہمارا کام دعائیں کرنا ہے ان کے لئے جو ہمارے اشد ترین مخالف ہیں کیونکہ وہ پہچانتے نہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہیں۔“ پھر احباب کو ہر حالت میں غصہ کے ردِ عمل سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔”۔۔۔۔۔۔مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احباب جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف اس قسم کا غصہ نہ آئے جس کی اجازت ہمیں ہمارے رب نے نہیں دی۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے میری خاطر تم ظلم سہو میں آسمانی فرشتوں کو بھیجوں گا تا کہ تمہاری حفاظت کریں۔اب ظاہر ہے اور موٹی عقل کا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی دوسرا افر دحملہ آور ہو اور جس پر حملہ کیا گیا ہے اس کو اپنے دفاع کے لیے ان دو چار ہتھیاروں میں سے جو میسر ہیں کسی ایک ہتھیار کے منتخب کرنے کا موقع ہو تو عقل کہتی ہے کہ اس کے نزدیک جو سب سے زیادہ مضبوط اور مؤثر ہتھیار ہو گا وہ اسے منتخب کرے گا تو اگر ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مومن کی عقل کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اگر دنیا کے سارے دلائل بھی ہمارے پاس ہوں اور ان کے ساتھ ہم اپنے مخالف کا مقابلہ کریں تو ہماری اس تدبیر میں وہ قوت اور طاقت نہیں جو ان فرشتوں کی تدبیر میں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے بھیجے اور کہے کہ میرے بندوں کی حفاظت کرو اور اس کی خاطر مخالفین سے لڑو۔پس جب یہ بات ہے تو ہماری عقل کہتی ہے کہ ہمیں کمزور ہتھیار سے اپنے مخالف کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے۔جب ہمیں ایک مضبوط ہتھیار بھی میسر آسکتا ہے اور آرہا ہے تو ہمارے خدا نے ہمیں یہ کہا کہ تمہارا کام ہے دعائیں کرنا اور میرا کام