دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 79
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" نے آنحضرت کی سنت کی روشنی میں احباب جماعت کو تلقین فرمائی تھی کہ وہ گھڑ سواری میں دلچسپی لیں اور پھر صد سالہ جوبلی کے لیے چندہ کی تحریک کی گئی۔اس پر المنبر نے 8 / مارچ 1974ء کی اشاعت کے سرورق پر یہ اعلان جلی حروف میں شائع کیا۔”ربوہ میں دس ہزار انعامی گھوڑوں کی فوج۔۔79 نو کروڑ روپیہ کے فنڈ۔۔۔۔۔۔کی فراہمی کن مقاصد کے لئے ؟۔۔۔۔۔۔مزید بر آں۔۔۔۔۔۔قادیانی سیاست کا رخ۔۔۔۔۔۔اب کس جانب ہے ؟ اور ہم مسلمان کیا سوچ رہے ہیں؟۔کیا کر رہے ہیں؟۔۔۔۔۔۔کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔اور ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟“ شروع ہی سے جماعت کے مخالفین کا یہ طریق رہا ہے کہ جب وہ ملک میں کوئی شورش یا فساد برپا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہوں تو یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ قادیانی ملک میں فساد پھیلانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ورنہ اس دور میں کوئی دس ہزار گھوڑوں کی فوج پال کر کیا کر سکتا ہے ، اس کا جواب کسی سے پوشیدہ نہیں۔جنہوں نے فسادات بر پا کرنے ہوں یا بغاوت کا ماحول پیدا کر نا ہو وہ گھوڑے پالنے کاتر در نہیں کرتے۔یہ بات واضح تھی کہ اب جماعت کے خلاف شورش کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور اس مرتبہ تعلیمی اداروں کے طلبا کو بھی اس فساد میں ملوث کیا جائے گا۔احباب جماعت کو صبر سے کام لینے کی تلقین جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ 1974ء تک جماعت کے خلاف تیار کی جانے والی عالمی سازش کے آثار افق پر واضح نظر آرہے تھے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث 1973ء کی ہنگامی مجلس شوری میں تفصیل سے بیان فرما چکے تھے کہ جماعت کے مخالفین اب کس طرح کی سازش تیار کر رہے ہیں۔اس پس منظر میں حضور نے 24 / مئی 1974ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ اس دنیا میں انبیاء اور مامورین کا آنا دنیا کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے ہوتا ہے۔اس لیے منکرین پر گرفت فور آ نہیں ہوتی تا کہ اُن میں سے زیادہ سے زیادہ لوگ ہدایت پا جائیں اور جب عذاب آئے بھی تو سب کے سب ہلاک نہیں ہوتے جو باقی رہ جاتے ہیں ان میں سے بہت سے ہدایت پاکر دین کی تقویت کا باعث بن جاتے ہیں اور اس طرح ایمان لانے والوں کی تربیت کی جاتی ہے اور امتحان لیا جاتا ہے۔پھر حضور نے جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا:۔