دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 78
78 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری سے اور اس کی تصویر ان حسین چھو کر یوں کے ساتھ کھنچوانے جو لندن میں نیم عریانی کے لباس کی اپنے خوبصورت اور ڈھلے ہوئے جسموں پر نمائش کر کے دکان میں آنے والوں کو خریداری پر آمادہ کرتی ہیں۔یہ صاحبزادے کس کے لئے یہ نیم عریاں لباس خریدنے گئے تھے۔یہ آج تک معلوم نہ ہو مگر شاید لباس کے خریدار نہ ہوں۔۔۔۔۔۔(آگے کچھ زیادہ سخت الفاظ حذف کر دیئے گئے ہیں)۔غرض جو کچھ ہو ہے ”فعل فیصل اور تمسک بالکتب والسنۃ۔“ 66 66 (ہمدرد 13 نومبر 1927 ء بحوالہ مولانا محمد علی جوہر آپ بیتی اور فکری مقالات ص828 مر تبہ سید شاہ محمد قادری) مخالفین جماعت کے ارادے ظاہر ہوتے ہیں اب یہ بات ظاہر وباہر ہوتی جارہی تھی کہ جماعت کے مخالفین ایک بار پھر جماعتِ احمدیہ کے خلاف ایک بڑے منصوبے پر عملدرآمد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اور 1953ء میں تو جماعت کی مخالف شورش کا دائرہ بڑی حد تک صوبہ پنجاب تک محدود تھا مگر اب 1974ء میں جبکہ جماعت احمدیہ پہلے کی نسبت دنیا بھر میں بہت زیادہ ترقی کر چکی تھی۔مخالفین کی کوشش تھی کہ پوری دنیا میں جماعت احمدیہ کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا جائے۔مگر چونکہ ابھی بھی پوری دنیا کی جماعتوں میں پاکستان کی جماعت سب سے زیادہ اہم تھی اور جماعت کا مرکز بھی پاکستان میں تھا اس لیے سب سے زیادہ زہر یلا وار یہیں پر کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں تا کہ احمدیت پر ایساوار کیا جائے جس سے جماعت کا عالمی تبلیغی جہاد اس سے بُری طرح متاثر ہو۔چنانچہ 1974ء کے آغاز میں جماعت مخالف رسائل میں یہ اشتہارات چھپنے لگے کہ قادیانیت کی مخالفت کے لیے قادیانی محاسبہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔اور اس کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی۔ہفت روزہ چٹان 28 / جنوری 1974 ء ص 15) اس کو تو شاید معمول کی بات سمجھا جاتا لیکن اس کے ساتھ یہ اعلانات چھپنے لگے کہ مرکزی قادیانی کمیٹی کو ایک ہزار نوجوانوں کی ضرورت ہے۔اور کالج کے طلبا خاص طور پر اس طرف توجہ کریں۔ہفت روزہ چٹان 27 / مئی 1974ء ص 17) اور اس کے ساتھ جماعت کے مخالف جریدے عوام الناس کو احمدیت کے خلاف بھڑ کانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔اور یہ سب کچھ کس انداز میں کیا جارہا تھا اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ