دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 77
77 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یہ سوال بار بار اٹھایا گیا ہے کہ آخر میں امیر فیصل نے مسجد فضل کا افتتاح کیوں نہیں کیا جب کہ وہ اپنے ملک سے اس ارادہ سے چلے تھے کہ اس افتتاح کی تقریب میں حصہ لیں۔جیسا کہ ایک مرحلہ پر تاثر دیا گیا تھا۔اگر یہ باور کیا جائے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ ہندوستان کے مسلمان کسی طرح اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ سعودی مملکت پر کسی قسم کا دباؤ ڈال سکیں اور تاریخی طور پر اس قسم کا کوئی خاطر خواہ بیان یا ثبوت بھی نہیں ملتا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا دباؤ پیدا کیا گیا تھا۔ان کے کئی قائدین سلطان عبد العزیز کے خلاف بیان دیتے ہوئے ہندوستان سے گئے تھے اور حجاز مقدس پہنچ کر ان سے اتنامر عوب ہوئے تھے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے واپس آئے تھے اور یہ بھی باور نہیں کیا جاسکتا کہ انگلستان کے مسلمانوں کی طرف سے ایسی صورتِ حال پیدا کی گئی تھی کیونکہ اس وقت انگلستان میں مسلمان برائے نام تعداد میں موجود تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد نے خود اس تقریب میں شمولیت کی تھی۔اس وقت سعودی مملکت خفیہ طور پر سلطنت برطانیہ سے جس قسم کے مذاکرات کر رہی تھی اس کے لئے یہ بہت ضروری تھا کہ کسی طرح سلطنت برطانیہ کی ناراضگی نہ مول لی جائے۔بہر حال امیر فیصل نے جو کہ بعد میں سعودی مملکت کے فرمانروا بھی بنے اس دورہ میں مسجد فضل کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن انہوں نے مغربی طاقتوں کی طرف بالخصوص سلطنت برطانیہ کے بارے میں جس طرح دوستانہ رویہ ظاہر کیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا اور اس کے متعلق مسلمان قائدین نے آوازیں بلند کرنی شروع کیں۔چنانچہ مولانا محمد علی جوہر نے امیر فیصل کے اس دورہ کے بارے میں یہ الفاظ لکھے۔الفاظ کافی سخت ہیں ہم اس کی تصدیق یا تردید کی بحث میں پڑے بغیر اس لئے درج کر رہے ہیں کہ تا کہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ اس وقت اس دورہ کا عام مسلمان قائدین میں کیا ردِ عمل تھا۔مولانا محمد علی جو ہر موتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے انجام اور امیر فیصل کے دورہ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔وو جو حشر جمہوریت کی تعریف اور مقدس مقامات کے احترام کا ہو اوہ ایک عالم جانتا ہے۔جو حشر موتمر عالم اسلام کا کیا جا رہا ہے اس کے متعلق جلد کچھ عرض کروں گا۔شرف عدنان بے اول موتمر کے صدر کا تار جو علامہ سید سلمان ندوی نائب صدر موتمر کے نام موصول ہو اوہ آپ کے سامنے ہے۔پڑھئے اور سلطان ابن سعود کے ایفائے عہد کا لطف اُٹھائیے۔یہ ہے وہ تمسک بالكتب والسنتہ جو ہدم مقابر ماثر اور مزارِ رسولِ اکرم (روحی فداہ کے قرب وجوار تک کو اندھیرے میں ہی چھوڑنے سے ہی ثابت ہوتا ہے یا پھر شاہ انگلستان اور ملکہ ہالینڈ کے ہاتھوں سے صلیبی تمغہ اپنے نائب اور صاحبزادے کے سینے پر لٹکوانے