دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 569
569 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری باوجود تمام تجربہ اور ذہانت کے بھٹو صاحب اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ خواہ وہ زرعی اصطلاحات کا معاملہ ہو یا آئین میں مذہبی ترمیمات کا قضیہ ہو ، ایسے فیصلوں کے ملک پر قوم پر اور سیاسی عمل پر دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں اور یہ سب معاملات پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔اگر صرف یہ سوچ کر یہ اقدامات کئے جائیں کہ اب اس کے ذریعہ میں دائیں بازو کو مات دے دوں یا اب اس کے ذریعہ میں بائیں بازو کو پچھاڑ دوں گا تو یہ تو بہت سطحی سوچ ہو گی اور نہ صرف ملک کے لئے بلکہ فیصلہ کرنے والوں کے حق میں بھی اس کے بہت خوفناک نتائج نکل سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔فیصلہ سے جب الیکشن کا سال آیا بھٹو صاحب نے 7 / مارچ کو قومی اسمبلی کا انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے وفاقی وزراء میں سے عبد الحفیظ پیرزادہ اور رفیع رضا صاحب اور امریکہ کے سفیر بایوروڈ (Byroad) کو اس مطلع کیا۔ایک اہم ملکی معاملہ میں سب سے پہلے ایک غیر ملکی سفیر کو اعتماد میں لیا جا رہا تھا جب کہ خودان کے اکثر وزراء اس فیصلہ سے بے خبر تھے۔(3) 7 جنوری 1977ء کو وزیر اعظم بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک طویل تقریر کی۔اس میں پہلے انہوں نے اپنے دور اقتدار کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔اسلام کے لئے اپنی خدمات کا ذکر کیا اور 1973ء کے آئین کی تشکیل کے کارنامے کا ذکر کیا۔انہوں نے اپنی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈرامائی انداز میں ایک بوتل نکالی کہ پاکستان میں ڈھوڈک کے مقام پر تیل دریافت ہوا ہے اور اپوزیشن کے لیڈر مفتی محمود صاحب کو سونگھائی کہ یہ تیل ہے۔پھر انہوں نے انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ اپنے دور اقتدار کو مزید مشرف بہ اسلام کرنے کے لئے انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اب سے جمعہ کے روز تعطیل ہو گی۔اور کہا کہ اتوار کی تعطیل ایک غیر اسلامی چیز تھی جس کی اصلاح کر دی گئی ہے اور پھر فخریہ انداز میں کہا کہ یہ فرض بھی ہم گنہگاروں نے انجام دیا ہے۔(6) بھٹو صاحب کو ذاتی طور پر مذہب سے تو کم ہی دلچسپی تھی لیکن عموماً یہ رجحان ضعیف الاعتقادی کی طرف بھی لے جاتا ہے۔چنانچہ اب جو انتخابات کا اعلان ہوا تو بھٹو صاحب نے نجومیوں اور دست شناسوں کی طرف رجوع کیا۔ان کے ایک صوبائی وزیر انتخابات کی تاریخ کے سعد ہونے کی سند لینے کے لئے سری لنکا دوڑے