دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 555 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 555

555 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 7 ستمبر کو بھٹو صاحب اپنے آپ کو بہت مضبوط محسوس کر رہے تھے۔لیکن کیا اس نے انہیں کوئی فائدہ دیا؟ جلد ہی ان کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلی اور پھر ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ان پر احمد رضا قاتلانہ حملہ کرانے اور ان کے والد کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں پھانسی کی سزا دی قصوری صاحب پر اگر یہ فیصلہ خدا کی نظر میں مقبول تھا تو اس کے کچھ آثار بھی تو نظر آنے چاہئے تھے۔ہمیں اس کے بعد کی تاریخ میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔کیا اس فیصلہ سے جماعت احمدیہ کی ترقی رک گئی ؟ بالکل نہیں جماعت احمدیہ پہلے سے بہت زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتی چلی گئی۔جو نقصان ہوا ملک کا اور اس فیصلے کو کرنے والوں کا ہوا۔بہت سے تجزیہ نگاروں نے اس فیصلہ کا تجزیہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ان میں سے کچھ مثالیں پیش ہیں۔موسیٰ خان جلال زئی اپنی کتاب The Sunni-Shia Conflict in Pakistan میں لکھتے ہیں۔صورتِ حال اس وقت تبدیل ہو گئی جب پنجاب حکومت نے 1951ء میں مرکزی حکومت کے خلاف مذہبی پتے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔مؤخر الذکر ثابت قدم رہی اور احمدیوں کے خلاف فسادات کو روکنے کے لیے فوج طلب کر لیا گیا۔دو دہائیوں کے بعد بھٹو صاحب نے احمدیوں کی مخالفت کا پتہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔شاید یہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کی قیادت کرنے والے ممالک کے گروہ میں بیٹھنے کے قابل ہو کو طلب جائے۔“(18) ایماڈ نکن (Emma Duncan) اپنی کتاب Breaking The Curfew میں بھٹو صاحب کا ذکر کرتے ہوئی لکھتی ہیں:۔غالباً احمدیوں پر ان کا حملہ بھی اس نیت سے کیا گیا تھا تاکہ وہ قدامت پسند مذہبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر سکیں۔۔۔مگر 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ بھی شاید ان حلقوں میں ستی