دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 493
493 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دیا۔دوسری طرف مسلم لیگ کے اکا برین کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ محمود حسن صاحب کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔وہ اس مخبری سے لا علم تھے چنانچہ انہوں نے جنوری 1918ء کے اجلاس میں اس بات کا اظہار کیا کہ یہ شخص اس قسم کا آدمی نہیں ہے کہ حکومت کے خلاف کسی سرگرمی میں حصہ لے۔(The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p113) اور اس جنگ میں لاکھوں ہندوستانی مسلمان سپاہی انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہو کر ان کی طرف سے لڑ رہے تھے۔اب کیا اس صورت میں ہندوستان کے مسلمان اس فوج کی شکست یا اپنے بھائیوں کے گرفتار ہونے یا ہلاک ہونے کے خواہشمند رہتے۔لیکن اس ضمن میں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں۔ایک تو یہ کہ اس جنگ میں ہندوستان کے غیر از جماعت مسلمانوں کی ہمدردیاں کس کے ساتھ تھیں اور دوسرے یہ کہ انگریزوں نے بغداد اور دوسرے عرب علاقوں پر قبضہ کن کے تعاون سے کیا تھا۔جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو تاریخ کے سرسری مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے اس جنگ میں ہندوستان کے مسلمان پوری طرح سے برطانیہ کا ساتھ دے رہے تھے۔اور ان میں سے لاکھوں نے تو فوج میں بھرتی ہو کر برطانیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ بھی لیا تھا۔اگر ہم صرف پنجاب کا ہی جائزہ لیں تو اس صوبہ کے مسلمانوں نے لاہور سمیت صوبہ کے کئی شہروں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کیے تھے جن میں انگریز حکومت سے وفاداری کا اعادہ کیا تھا اور ان کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔مثلاً ایک بڑا جلسہ /12/ اگست 1914ء کو لاہور میں منعقد ہوا تھا اور اس کی رپورٹ کے مطابق اس میں مسلمانانِ پنجاب کی طرف سے اظہارِ وفاداری اور عقیدت کیا گیا اور سرکار انگلشیہ کی فتح اور نصرت کے لیے دعائیں مانگی گئیں اور یہ ریزولیشن ریزولیشن منظور کیا گیا جس میں حکومت کو پنجاب کے مسلمانوں کی طرف سے ”غیر متزلزل وفاداری اور عقیدت شعاری کا یقین دلایا گیا اور ”سلطنت کی حفاظت کے لیے اپنے تمام ذرائع