دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 492
492 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری (The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p184,189) ان اجلاسات میں حکومت کے کئی فیصلوں سے اظہار اختلاف بھی کیا گیا اور حکومت کے بعض فیصلوں پر تنقید بھی کی گئی لیکن مذکورہ بالا قرار دادوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس جنگ عظیم کے دوران مسلم لیگ ہر گز نہیں تھی کہ مسلمانوں میں بغاوت کے خیالات پیدا کئے جائیں یا کسی بھی رنگ میں جنگ کے معاملے میں انگریز حکومت سے عدم تعاون کیا جائے۔مندرجات بہت واضح ہیں کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔اس وقت قوم کے قائدین نے قوم کے مفادات میں اسی راہ کو سب سے زیادہ مناسب سمجھا تھا۔اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ قائد اعظم جیسے دور اندیش سیاستدانوں کی ذہانت تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک پر امن بالغ نظر اور حقیقت پسندانہ روش پر چلایا اور کسی قسم کے فتنہ فساد میں ڈال کر ان کو ابتلاؤں میں مبتلا نہیں کیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعد میں جب پہلی جنگ عظیم کے دوران مہتمم دارالعلوم دیوبند محمد احمد صاحب کو یہ خبر ملی کہ مکہ میں ترکی کے حامیوں نے میٹنگ کی ہے اور انکی ملاقات انور پاشا سے ہوئی ہے اور انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ ہندوستان میں بغاوت کو اُبھارا جائے اور اس میٹنگ میں ان کے مدرسہ کے ایک استاد محمود حسن بھی موجود تھے تو مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مخبری کرتے ہوئے یہ تفصیلات انگریز حکومت کو بھجوا دیں۔(The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p53) بعد میں جب محمود حسن واپس ہندوستان آ رہے تھے تو اس مخبری کی بنا پر شریف حسین والی مکہ نے انگریزوں کے ایماء پر انہیں گرفتار کر لیا اور انہیں انگریزوں کے حوالے کر دیا اور انگریزوں نے انہیں مالٹا بھجوا