دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 477
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 477 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اوائل میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ال نیم کو سچی خوابیں دکھائی تھیں پھر غار حراء میں آپ پر جبرائیل نازل ہوئے۔(صحیح بخاری۔کتاب کیف بدء الوحی) اس پر کوئی یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ پہلے دن ہی آپ پر جبرائیل کیوں نہیں نازل ہوا؟ اسی طرح پہلی وحی میں آپ کو انذار کرنے کا حکم نہیں ملا تھا۔یہ حکم بعد میں نازل ہوا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام دوسروں تک پہنچایا۔کیا اس پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ پہلی وحی میں ہی آپ کو حکم کیوں نہ دیا گیا کہ آپ نے دنیا کو انذار کرنا ہے؟ ایسا اعتراض معقولیت سے بالکل عاری ہو گا۔حضور نے اس امر کی نشاندہی فرمائی کہ کائنات کی ہر چیز کی نشو و نما میں ہمیں تدریج نظر آتی ہے۔۔اعتراض کفار مکہ نے بھی کیا تھا جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ الفرقان آیت 33 میں وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَة اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ کہیں گے کہ اس پر قرآن کریم ایک دفعہ کیوں نہ اتارا گیا۔اب اٹارنی جنرل صاحب نے اس اعتراض کو وزنی بنانے کے لئے کہا کہ ”براہین احمدیہ حصہ پنجم“ کے صفحہ 54 پر وو لکھا ہے: اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جبکہ علماء مخالف ہو گئے تھے وہ لوگ ہزار ہا اعتراض کرتے لیکن ایسے موقع پر شائع کیے گئے جبکہ یہ علماء ہمارے موافق تھے یہی سبب باوجود اس قدر جوش کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا چونکہ وہ ایک دفعہ اس کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے پر ظاہر ہو