دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 476
476 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری علیہ السلام کے وقت پوری ہو گی۔آپ نے اس ضمن میں تفسیر ابن جریر، تفسیر حسینی اور غرائب القرآن کی مثالیں پیش کیں کہ ان تینوں تفاسیر میں یہ لکھا ہے کہ عالمگیر غلبے کا یہ وعدہ نزول عیسی کے وقت پورا ہو گا۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی مضمون بیان فرمارہے ہیں جنہیں سابقہ مفسرین چودہ سو سال سے بیان کرتے رہے ہیں۔اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں اُٹھایا جا سکتا۔اب یوں معلوم ہوتا تھا کہ محض وقت گزارنے کے لئے سوالات کئے جا رہے ہیں۔طے شدہ موضوع پر تو کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی تھی لیکن اب تو نا قابل فہم صورت حال پیدا ہو رہی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کیا مرزا صاحب کو لیکلفت نبوت ملی تھی یا تدریجا ملی تھی اور کیا کسی اور نبی کو تدریجا نبوت ملی تھی اور اس کے ساتھ کہا کہ یہ سوال مولوی ہزاروی صاحب کی طرف سے کیا گیا۔ہے۔جواب کی طرف تو بعد میں آتے ہیں لیکن یہاں ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے دعاوی کے بارے میں الہامات تدریجاً ہوئے تھے یا یکلخت اس کا قومی اسمبلی یا اس کارروائی سے کیا تعلق تھا ؟ وہ کیوں فکر مند ہو رہے تھے ؟ اس کے جواب میں حضور نے یہ پر معرفت نکتہ بیان فرمایا کہ نبی اکرم صلی الم پر آیت خاتم النبیین نبوت کے سترہویں سال نازل ہوئی تھی۔مقام خاتم النسین آنحضرت صلی اللہ ملک کو سب انبیاء میں ممتاز کرتا ہے اور آپ کے زمانہ نبوت کے آغاز کے سترہ سال کے بعد اس کے بارے میں وحی نازل ہوئی تھی۔اگر کوئی نا سمجھ یہ اعتراض کر بیٹھے کہ پہلی وحی میں آپ پر کیوں نہ واضح کر دیا گیا کہ آپ اس مقام پر فائز ہیں تو یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہو گا۔