دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 457
457 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اٹارنی جنرل صاحب کو مشکل یہ در پیش تھی کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے، یہ دلیل لائے تھے کہ برطانوی سلطنت کے دور میں احمدیوں نے دوسرے مسلمانوں کے رویہ کے خلاف برطانوی حکومت کی تعریف کی تھی اور اس وقت کی حکومت کی اطاعت اور اس سے تعاون کا فیصلہ کیا تھا اور اب یہ ہو رہا تھا کہ ایک کے بعد دوسرے حوالے سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ اس وقت کے غیر احمدی مسلمان سب سے زیادہ برطانوی حکومت کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہے تھے اور ان کی اطاعت کو اپنا فریضہ مذہبی سمجھتے تھے۔فرضی ماضی سے حقائق کی دنیا کی طرف سفر کبھی بھی خوشکن نہیں ہو تا۔اٹارنی جنرل صاحب ان باتوں کی اہمیت کم کرنے کے لئے کہا کہ وو اس پر دو 66 ایسی خوشامد لوگ کرتے رہیں ، میں ان کی بات نہیں کر رہا۔۔۔“ حضور نے انہیں یاد دلایا:۔حضرات بڑے پائے کے علماء اور اس وقت کے مذہبی لیڈروں کی بات ہو رہی ہے۔ایسے ویسے کی بات نہیں 66 ہو رہی۔" لیکن اٹارنی جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ ایسے تو چند ہی لوگ ہوں گے۔اٹارنی جنرل صاحب نے بیچارے علی حائری صاحب پر خواہ مخواہ غصہ نکال رہے تھے اور ان کو خوشامدی کا خطاب دے رہے تھے اور ان کا یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں تھا کہ ایسے چند لوگ تھے۔پوری مسلم لیگ جن الفاظ میں برطانوی سلطنت کی مدح سرائی کر رہی تھی ہم نے اس کی صرف چند مثالیں درج کر دی ہیں۔اب ہم اس ضمن میں ایک اور مثال پیش کرتے ہیں۔یہ مثال بھی کسی ایسے ویسے شخص کی نہیں ہے بلکہ علامہ اقبال کی ہے۔علامہ اقبال ، مصور پاکستان، شاعر مشرق جنہیں پیغمبر خودی بھی کہا جاتا ہے۔جب 1901ء میں ملکہ وکٹوریہ کا